Home / کالم / جسے امریکہ رکھے اسے کون چکھے !
urdu columns

جسے امریکہ رکھے اسے کون چکھے !

تحریر : ارشد فاروق بٹ
عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ نے اپوزیشن کا بوریا بستر گول کر دیا ہے۔ جس کا اظہار سوشلستان پر بھڑاس نکال کر کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی منجدھار میں پھنسی ڈانواں ڈول کشتی بالآخر امریکی یاترا کے بعد کنارے آ لگی ہے جس سے ملکی سیاست اور خارجہ پالیسی کا رخ ایک بار پھر تبدیل ہو گیا ہے۔
عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو امریکہ میں ویسی ہی پذیرائی ملی ہے جیسی جنرل ایوب خان کے حصے میں آئی تھی۔ امریکی ضرورت کے وقت پھول نچھاور کرتے ہیں اور ضرورت پوری ہونے پر ڈرون حملے۔
بہرحال امریکہ میں مقیم پاکستانی قابل ستائش ہیں کہ انہوں نے امریکہ میں تاریخ کا سب سے بڑا اکٹھ کر کے اسرائیلی اور بھارتی لابیوں کو حیران کر دیا ہے۔ پاکستانی جنہیں دنیا قوم کی بجائے منتشر ہجوم سمجھتی ہے اس نے دنیا کے سب سے طاقتور ملک میں اپنی منظم طاقت کا لوہا منوا لیا ہے۔
70 کی دہائی سے پاکستانی حکمرانوں کی روایت چلی آ رہی ہے کہ اقتدار میں آؤ، قرضے لو، ڈنگ ٹپاؤ اور اپنی دکان بڑھا کے چلتے بنو۔
تحریک انصاف کی حکومت نے پہلے سال اس روایت کو بدلنے کی کوشش کی، امریکی امداد کے بغیر دوست ممالک کے ذریعے ملکی معیشت کو استوار کرنے کی کوشش کی جس میں ناکامی پر عوامی غم وغصے کا سامنا کرنا پڑا۔
دوست ممالک اور امریکی امداد میں ایک بڑا فرق ہے۔ دوست ممالک قرض دیتے ہیں اور امریکہ اپنے اہداف میں تعاون کے بدلے امداد۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان گزشتہ تین دہائیوں سے محض امریکہ کی ایک طفیلی ریاست بن کے رہ گیا ہے۔
امریکی آشیرباد کے بعد اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ حکومت اب کہیں نہیں جا رہی۔ اور منقسم اپوزیشن دو چار جلسے جلوس اور ریلیوں کے بعد دوبارہ پارلیمنٹ کا رخ کرے گی۔ اپوزیشن کا بڑا مسئلہ قیادت کا ہے۔ ایم کیو ایم مائنس ون کے بعد اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی مائنس ون کے فارمولے کے خلاف نبرد آزما ہیں جس میں کامیابی کا دارومدار بڑی حد تک آنے والے دنوں میں ملک کی معاشی صورتحال یا حکومت سے ڈیل پر ہو گا۔ جس میں مسلم لیگ ن سے زیادہ پیپلز پارٹی کامیاب دکھائی دیتی ہے۔
حکومت و اپوزیشن دونوں کو اب تماشائی دنیا سے نکل کر عوام کی حالت پر ترس کھانا چاہئے، ہاتھیوں کی لڑائی کے بیچ یہ عوام ہی ہے جو روز مر رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے