Home / آس پاس / کرپشن کی کہانی ، مال منڈی مویشیاں چیچہ وطنی
chichawatni buffalo mandi

کرپشن کی کہانی ، مال منڈی مویشیاں چیچہ وطنی

تحریر : حبیب اللہ چیمہ ممبر ورلڈ کالمسٹ کلب پاکستان ، نمائندہ روزنامہ اسلام (لاہور)
قیام پاکستان سے بھی پہلے سے چیچہ وطنی میں ہر ماہ منڈی مویشیاں لگ رہی ہے جو کہ نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان بھر میں مشہور ہے۔ لوگ دور دراز کے علاقوں سے یہاں جانور خریدنے آتے ہیں ۔ ہمارے کئی مہربان جو جانورں کی خرید و فروخت کرتے ہیں وہ ہم سے رابطہ بھی کرتے ہیں اور یہاں آ کر قیام بھی کرتے ہیں ۔

چند سال پہلے بعض ممالک نے جانوروں کی بہترافزائش کے سلسلے میں فنڈنگ کی تو پنجاب حکومت نے مختلف شہروں میں ماڈل مال منڈیاں بنانے کا فیصلہ کیا جس میں چیچہ وطنی کا نمبر بھی آیا (اور یہاں کی کئی ایکڑ پر موجود وہ منڈی جو کبھی شہری آبادی سے باہر ہوا کرتی تھی اور اب شہر کے اندر آ چکی ہے) جس کے لیے پہلے 23 کروڑ روپے کے فنڈز رکھے گئے جو کہ بعد میں 29 کروڑ تک پہنچ گئے۔

چاہیئے تو یہ تھا کہ موجودہ منڈی جو کہ کام کی بہتات کے باعث تنگ پڑ چکی تھی اس کو شہر سے باہر کھلی جگہ منتقل کیا جاتا لیکن اسی تنگ جگہ کو مذید تنگ کرکے ماڈل منڈی کا نام دے دیا گیا ۔ اتنے بڑے منصوبے کو منصوبہ سازوں نے برباد کرکے رکھ دیا کہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو کمیشن مافیا کی بھوک کیسے مٹتی۔

اطلاعات کچھ یوں ہیں کہ 29 کروڑ روپے میں سے 30 فیصد کے قریب کی بندر بانٹ کی گئی جس میں خوردبرد کیا گیا پیسہ بیورو کریسی، سیاستدان اور ماڈل منڈی ڈیپارٹمنٹ کےافسران کے حصے میں آیا اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ٹھیکیداروں نے کچھ لوگوں کو کام ملنے سے پہلے ہی حصہ بقدر جثہ ادا کردیا تھا۔

بہرحال منڈی کا کام جاری رہا اور مختلف ٹھیکیداروں نے کام لے کر آگے سب کنٹریکٹرز سے بھی کام کروایا ۔ چند ماہ سے کام مکمل ہوچکا تھا اور نواحی گاؤں چک 42 بارہ ایل کی وہ جگہ بھی واپس کر دی گئی جہاں گزشتہ کئی سال سے عارضی منڈی لگائی جا رہی تھی، اب صورتحال یہ ہے کہ مسلسل 70 سال سے زائد عرصہ سے چیچہ وطنی میں لگنے والی منڈی مویشیاں کرپشن کی نظر ہوکر 3 ماہ سے مکمل بند ہے اور عید قربان پر بھی یہ منڈی نہ لگ سکی ۔ منڈی کے تعمیراتی کام کے دوران الیکٹرونک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر مختلف انداز اور ذرائع سے اس کروڑں کے پروجیکٹ کی کرپشن پر بہت کچھ لکھا گیا لیکن مجال ہے کہ کسی کے کان پر جوں تک رینگی ہو-

گزشتہ ماہ ہم نے سنا کہ وزیر اعلی پنجاب جناب عثمان بزدار اس ماڈل منڈی کا افتتاح کرنے آ رہے ہیں تو شہری حلقوں میں پھر چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں ۔
وہ کہتے ہیں نا کہ
مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
کے مصداق وزیر اعلی پنجاب جناب عثمان بزدار کا دورہ چیچہ وطنی ( برائے افتتاح مال منڈی ) محض اس بناء پر ملتوی ہوگیا کہ سابق ایم این اے جناب رائے عزیز اللہ خان کے صاحبزادے کی شادی کینیڈا میں ہو رہی تھی اور موجودہ ایم این اے جناب رائے مرتضی اقبال خاں اور سابق ضلعی ناظم و سابق ایم این اے جناب رائے حسن نواز خاں اس سلسلہ میں کینیڈا کے سفر پر تھے کہ اسی دوران بارش کے باعث مال منڈی کی دیواریں زمیں بوس ہوگئیں ۔

بارش بھی کوئی ایسی طوفانی نہ تھی لیکن دیواریں تو تب کھڑی رہتیں کہ جب کوئی سیمنٹ کا تناسب ہوتا باقی ماندہ دیواریں بھی ڈیمج ہوگئیں تو ٹھیکیدار کی پھرتیاں دیکھیں کہ ادھر دیوار گری کہ چند گھنٹوں میں مستری و مزدور وہاں موجود اور اسی میٹیرل سے دوبارہ کام شروع کر دیا گیا۔ جس پر مجھ سمیت بہت سے دوستوں نے آواز اٹھائی لیکن شاں شاں کرتے سمندر میں ہماری کون سنتا ۔

یہاں یہ بھی یاد رہے کہ دیواروں کی تعمیر کے دوران اس وقت کے سیاستدانوں نے اپنے کچھ چہیتوں کی خاطر مال منڈی کی جنوبی سائڈ پر غیر قانونی گلی بنوائی تھی کیا مال منڈی کی جگہ پر اقربا پروری کے تحت ناجائز گلیاں اور سڑکیں بنانا درست ہے ؟

اب سنا ہے کہ خفیہ اداروں کی رپورٹس کی بناء پر جناب وزیر اعلی پنجاب نے اس بوگس کام کا افتتاح کرنے سے انکار کرتے ہوئے مال منڈی کے مکمل کام کی انکوائری لگا دی ہے۔ گزشتہ روز ایک جگہ بیٹھے میرے ایک مہربان نے بتایا کہ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ ایسی انکوائریوں کا کیا بننا ہے ہم ایسی انکوائریوں سے ڈرنے لگیں تو ٹھیکے لینا ہی چھوڑ دیں، بس اتنا ہے کہ کام کچھ لیٹ ہو جائے گا ۔

میں حیران ہوں کہ اتنی کرپشن اور پھر یوں افتتاح سے پہلے ہی کروڑوں روپے کی بربادی کے باوجود یہ کہا جائے کہ کچھ بھی نہیں ہوگا تو مطلب یہ کہ انکوائری کرنے اور کروانے والے بھی بس ” انکوائری انکوائری اور فائل فائل ” کھیلیں گے اور “سب اوکے” کی رپورٹ بن جائے گی؟

ہمارا مطالبہ موجودہ برسر اقتدار شخصیات سے ہے کہ خدا را مال منڈی کی کرپشن کی مکمل اور غیر جانبدار انکوائری کروائی جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت ترین کاروائی کی جائے اور ناجائز کسی کو تنگ نہ کیا جائے ۔

ایسا نہ ہو بڑے بڑے مگرمچھ بچ جائیں اور بعض چھوٹے چھوٹے لوگوں کو قربانی کا بکرا بنادیا جائے۔ ہماری اطلاع کے مطابق اس کام کی نگرانی میں 3 سرکاری ادارے جن میں لوکل گورنمنٹ، ہائی وے اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ شامل تھے اور وہ بھی اسکے ذمہ دار ہیں اور کرپشن و انکوائری میں ان سے بھی کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے بلکہ سرکاری اہلکار و افسران اس جرم میں زیادہ سزا کے مستحق ہیں ۔ ہم عوامی سطح پر پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی کو ناجائز تنگ نہ کیا جائے اور ذمہ دار کو معافی بھی نہیں ملنی چاہیئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے