Home / آس پاس / سیاست چیچہ وطنی: جانئے اہم ترین صوبائی حلقہ 201 کے بارے میں
chichawatni politicians

سیاست چیچہ وطنی: جانئے اہم ترین صوبائی حلقہ 201 کے بارے میں

ارشد فاروق بٹ:
گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ شہر کے سیاسی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ نئی ہونے والی حلقہ بندیاں ہیں ۔ شہر کے مرکز میں ہونے کے باعث صوبائی حلقہ 201 شہر چیچہ وطنی کی سیاست میں اہم ترین حیثیت رکھتا ہے جس نے ہر الیکشن میں اپنی پہچان برقرار رکھی ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے کچھ اثرات اس حلقے پر بھی پڑے ہیں۔ علاوہ ازیں مقامی شہریوں کے مزاج نے سیاست کا رخ تبدیل کر دیا ہے۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں اس حلقے کے محل وقوع ، مختصر سیاسی تاریخ اور بلدیہ چیچہ وطنی کی صورتحال پر۔
1۔ محل وقوع
نئی حلقہ بندیوں کے تحت پرانے صوبائی حلقے پی پی 225 کا نام تبدیل کر کے اب پی پی 201 کر دیا گیا ہے۔ اس حلقے میں بلدیہ چیچہ وطنی کے زیر انتظام شہری علاقہ اورتحصیل چیچہ وطنی کا قانونگو حلقہ کسووال شامل ہیں۔ تاہم اس حلقے میں چک نمبر 15 گیارہ ایل، چک نمبر 39 بارہ ایل، اور اقبال نگر کے قانونگو حلقے میں سے چک نمبر 39 چودہ ایل شامل نہیں ہیں۔
شہری علاقوں کی تفصیل
اربن ایریا : تعداد ووٹ 53 ہزار 6 سو 22
وارڈ نمبر 1 تا 22، چیئرمین رانا اجمل، وائس چیئر مین ملک اصغر گلزار ( اب بلدیاتی ادارے تحلیل کر دیے گئے ہیں)
تفصیل: بلاک نمبر 1 تا 19، گئوشالہ وارڈ نمبر 16 تا 21، شمس پورہ، درویش پورہ، امیر آباد، مہر آباد، جوگی محلہ، بلال گنج، فرید گنج، اندرون غلہ منڈی، رائے کوارٹر، لکڑ منڈی، دستگیر پارک، سول لائن، کرسچئن کالونی، کوارٹر بلدیہ، احمد نگر، مرضی پورہ، حیات آباد، ماڈل ٹاؤن، مرجان سٹی، علی ٹاؤن، حسن ٹاؤن، ٹیوٹا کالج ، ہسپتال، اسلام پورہ، بہار کالونی، فیصل کالونی، غفور ٹاؤن، چیمہ ٹاؤن، ہاؤسنگ کالونی، تین مرلہ سکیم، ڈسپوزل بستی، مقصود ٹاؤن، اوڈ کالونی، الفتح ٹاؤن، شاکر کالونی، بابو ٹاؤن، ولی ٹاؤن، گلشن حرمت، اقبال ٹاؤن۔
سال 2015 تک بلدیہ کے زیر انتظام شہری علاقوں میں رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد 53 ہزار 6 سو 22 تھی۔ نئی حلقہ بندیوں کے بعد اس صوبائی حلقے میں ٹوٹل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 75 ہزار 4 سو 47 ہے۔
2۔ سیاسی تاریخ
اس حلقے سے 2008 کے انتخابات میں ق لیگ کے امیدوار چوہدری ارشد جٹ 36 ہزار 3 سو اٹھانوے ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے۔ دوسرے نمبر پر رائے مرتضی تھے جنہوں نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا اور 32 ہزار 2 سو 16 ووٹ حاصل کیے۔تیسرے نمبر پر پیپلز پارٹی کے رانا نعیم الرحمان تھے جنہوں نے 6 ہزار 8 سو 94 ووٹ حاصل کیے۔ چوتھے نمبر پر مسلم لیگ ن کی امیدوار کیتھرین نذیر تھیں جنہوں نے 17 سو 6 ووٹ حاصل کیے۔
2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری ارشد جٹ نے اس حلقے سے 45 ہزار 6 سو 90 ووٹ حاصل کیے۔ جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار رائے محمد مرتضی اقبال نے 36 ہزار 17 ووٹ حاصل کیے۔ تیسرے نمبر پر آنے والے امیدوار ق لیگ کے محمد جاوید سہیل تھے جنہوں نے 16 ہزار 7 سو چھیانوے ووٹ حاصل کیے۔
2013 کے الیکشن میں دیگر امیدواران میں پیپلز پارٹی کے چوہدری شفقت علی چیمہ نے 25 سو اکیانوے ووٹ حاصل کیے۔ جبکہ جماعت اسلامی کے میجر (ر) غلام سرور صرف 77 ووٹ حاصل کر سکے۔
اس الیکشن میں ایم کیو ایم نے بھی جنوبی پنجاب میں پنجے گاڑنے کی کوشش کی ۔ راجہ تسلیم الیاس ایم کیو ایم کے امیدوار تھے جو صرف 16 ووٹ حاصل کر سکے۔
عام انتخابات 2018 میں پی ٹی آئی کے رائے مرتضی اقبال نے 66083 ووٹ حاصل کر کے پاکستان مسلم لیگ ن کے چوہدری حنیف جٹ کو شکست دی جن کے حاصل کردہ ووٹ 48786 تھے.
رائے مرتضی اقبال کی جانب سے ایم این اے کی سیٹ قبول کرنے پر اس حلقے میں اکتوبر 2018 میں دوبارہ ضمنی الیکشن ہوا جس میں پی ٹی آئی کے پیر سید صمصام بخاری نے 54699 ووٹ حاصل کر کے پی ایم ایل این کے چوہدری طفیل جٹ کو شکست دی جن کے ووٹ 47675 تھے.
4۔ بلدیہ چیچہ وطنی کی صورتحال:
اس وقت بلدیہ چیچہ وطنی میں پی ٹی آئی کی حکومت تحلیل ہو چکی ہے اور رانا اجمل بحیثیت چیئرمین اور ملک اصغر گلزار بحیثیت وائس چیئر مین اپنے عہدوں سے فارغ ہو چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کے دیگر کونسلرز میں رانا عطاء، مرزا لیاقت، ملک نعیم جکھڑ، عمران کمبوہ، عرفان ڈوگر، حافظ عاصم، حکیم شکور، بلال قمر انصاری، میاں سجاد، رانا جواد شامل تھے۔ فیاض کمبوہ بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کونسلر منتخب ہوئے تھے تاہم بعد میں وہ اپوزیشن میں شامل ہو گئے اور الیکشن 2018 کے قریب دوبارہ رائے گروپ میں شامل ہوگئے۔
پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں میں اصغر رحمانی (لیبر)، عبدالحنان (یوتھ)، بشیر مسیح منو (اقلیتی)، جبکہ تین خواتین کونسلر شاہدہ تسلیم، اکبری خانم اور وحیدہ منظور تھیں۔ اس طرح یہ کل تعداد 19 تھی۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے کونسلرز میں رانا محمد شاہد، شیخ ندیم اقبال، چوہدری یاسر علی جٹ، چوہدری ناصر طفیل جٹ، چوہدری محمد آصف رفیق، لالہ محمد افضال، چوہدری سعید سردار گجر اور سلطان مصطفائی شامل تھے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی لیڈی کونسلرز 2 تھیں جن کے نام نگہت نظامی اور ساجدہ عامر تھا۔ اس طرح مسلم لیگ ن کے کونسلرز کی تعداد 10 تھی۔
بلدیہ چیچہ وطنی میں آزاد منتخب ہونے والے واحد کونسلر میاں ظفر رحمانی تھے جنہوں نے اپنی آزادی کومقدم رکھا۔ تاہم ان کا جھکاؤ پی ٹی آئی کی طرف تھا۔
سیدمیر رمیز پاکستان تحریک انصاف چیچہ وطنی کے رہنما ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کا پی پی 201 میں پاکستان مسلم لیگ ن کو نقصان ہوا ہے۔چند ایک دیہات جن میں پی ایم ایل این کی ساڑھے چھ ہزار کی لیڈ تھی وہ نئی حلقہ بندیوں میں کٹ گئی ہے۔ بارہ ایل کے چکوک 48، 49 ، 50 اور چودہ ایل کے چکوک 39، 40 اور 41 میں ان کا ووٹ بینک زیادہ تھا جو کہ دوسرے حلقوں میں شامل ہو گئے ہیں۔
اس حلقہ میں جو نئے دیہات شامل ہوئے ہیں ان میں سر فہرست 34 بارہ ایل ہے جس میں پچھلے دونوں الیکشن میں پی ٹی آئی کی لیڈ 700 سے زیادہ تھی۔ دیگر شامل ہونے والے چکوک 41 بارہ ایل، 110 سیون آر، 109 سیون آر، 105 بارہ ایل اور 106 بارہ ایل میں بھی پی ٹی آئی کا ووٹ بینک قدرے بہتر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے دورہ چیچہ وطنی میں اس حلقہ کے عوام سے جو وعدے کیے تھے وہ وفا نہیں ہوئے۔
مسلم لیگ ن کے کونسلر سلطان مصطفائی ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایک کروڑ سے کم لاگت کے جتنے بھی منصوبے تھے ان پر کام جاری ہے۔ شہر میں سڑکیں، سیوریج اور دیگر منصوبوں پہ کام جاری ہے اور یہ منصوبہ جات 30 جون تک مکمل ہوں گے۔ ان کی گرانٹ جاری ہو چکی ہے۔
اسی طرح دیہات میں گیس کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔جن میں 41 بارہ ایل اور ہڑپہ سائیڈ کے کئی دیہات شامل ہیں۔ بائی پاس شہر سے باہر منتقل کرنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت کو کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ اس میں ہمارے سیاسی حریفوں کا مفاد ہے۔ رائے برادران کی بائی پاس کے دونوں طرف کالونیاں بن رہی ہیں۔ جبکہ کچھ پمپ مالکان بھی کبھی نہیں چاہیں گے کہ بائی پاس شہر سے باہر منتقل ہو یا کوئی انڈر پاس یا اوورہیڈ برج بنے۔

Summary
Photo ofRai Murtaza Iqbal
Name
Rai Murtaza Iqbal
Nickname
(murtaza)
Job Title
Politician
Company
Pakistan Tehreek e Insaf
Address
Rai House , Chichawatni,
Sahiwal Division, Punjab, Pakistan, 57200

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے