Home / آس پاس / چیچہ وطنی : صوبائی حلقہ 202 کا سیاسی منظر نامہ
chichawatni politicians

چیچہ وطنی : صوبائی حلقہ 202 کا سیاسی منظر نامہ

ارشد فاروق بٹ
تیزی سے ترقی پذیر اور تحصیل بننے کے راستے کی طرف گامزن صوبائی حلقہ 202 کی سیاست میں صوبائی امیدوار زیادہ ہونے کے باعث کافی گہما گہمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ان انتخابات میں پی پی 202 سے 2 خاندان اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑیں گے۔ نئی حلقہ بندیوں کے کچھ اثرات اس حلقے پر بھی پڑے ہیں۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں اس حلقے کے محل وقوع ، مختصر سیاسی تاریخ، اورانتخابات 2018 کے متوقع امیدواران پر۔
1۔ محل وقوع
نئی حلقہ بندیوں کے تحت پرانے صوبائی حلقے پی پی 226 کا نام تبدیل کر کے اب پی پی 202 کر دیا گیا ہے۔ اس میں تحصیل چیچہ وطنی کے قانونگو حلقے اقبال نگر، شاہکوٹ اور اوکانوالہ بنگلہ شامل ہیں۔
نئی حلقہ بندیوں کے بعد اس صوبائی حلقے میں ٹوٹل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 42 ہزار 7 سو 31 ہے۔
2۔ سیاسی تاریخ
اس حلقے سے 2008 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ملک اقبال احمد لنگڑیال نے 29955 ووٹ حاصل کیے۔ دوسرے نمبر آنے والے امیدوار جمشید عالم چوہدری تھے جنہوں نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا اور 15 ہزار 3 سو 73 ووٹ حاصل کیے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار میاں سیف الرحمن جوئیہ تیسرے نمبر پر رہے جن کے حاصل کردہ ووٹ 15 ہزار 1 سو 72 تھے۔ چوتھے نمبر پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ملک طالب حسین لنگڑیال تھے جنہوں نے کل 14 ہزار 922 ووٹ حاصل کیے۔ اس طرح سے یہ مقابلہ خاصا سنسنی خیزرہا۔
دیگر امیدواران میں ایم کیو ایم کے ذوالفقار علی نے 222 اور آزاد امیدوار آمنہ نوید نے 87 ووٹ حاصل کیے۔
بعد ازاں ملک اقبال احمد لنگڑیال جعلی ڈگری پر نااہل ہوئے اور ضمنی انتخابات دسمبر 2012میں مسلم لیگ ن کے چوہدری حنیف جٹ نے 42 ہزار 9 سو 94 ووٹ لے کر فتح حاصل کی۔ مسلم لیگ ق کی نسیم لنگڑیال دوسرے نمبر پہ رہیں۔ان کے حاصل کردہ ووٹ 35 ہزار 3 سو 69 تھے۔ تیسرے نمبر پر جمشید عالم چوہدری تھے جنہوں نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا اور17ہزار پانچ سو ووٹ حاصل کیے۔
2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری حنیف جٹ نے اس حلقے سے 49 ہزار 5 سو 42 ووٹ حاصل کیے اور ایم پی اے منتخب ہوئے۔ جبکہ ان کے مدمقابل پاکستان مسلم لیگ ق کی امیدوار آمنہ نوید نے 40 ہزار 7سو 15 ووٹ حاصل کیے اور دوسرے نمبر پر آئیں ۔ تیسرے نمبر پر آنے والے امیدوار پاکستان تحریک انصاف کے چوہدری عاصم نواز گجر تھے جنہوں نے 6 ہزار 4 ووٹ حاصل کیے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری محمد منشاء باٹھ نے 2 ہزار 2 سو 38 ووٹ حاصل کیے اور چوتھے نمبر پر رہے۔
میجر (ر) محمد غلام سرور نے جماعت اسلامی کی طرف سے ان انتخابات میں حصہ لیا اور 62 ووٹ حاصل کیے۔
3۔ انتخابات 2018 کے متوقع امیدوار
عام انتخابات میں پی پی 202 کے متوقع امیدواروں میں پاکستان مسلم لیگ ن کے چوہدری حنیف جٹ اور چوہدری شاہد منیر ہیں.
پاکستان تحریک انصاف کے ملک نعمان لنگڑیال اگر این اے 149 کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تو آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں یا پی ٹی آئی کی طرف سے پی پی 202 کے امیدوار ہونگے۔ پی ٹی آئی کے میجر (ر) غلام سرور، نعمان لنگڑیال کے کزن مسعود لنگڑیال اور محمد نعیم اختر بھی اسی حلقے سے ٹکٹ کے خواہشمند ہیں اور الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میجر(ر) غلام سرور پچھلے دنوں کسووال میں ایک ورکرز کنونشن منعقد کر کے انتخابی حلقوں میں توجہ حاصل کر چکے ہیں جس میں شاہ محمود قریشی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
پی ٹی آئی کے مذکورہ بالا تینوں امیدواران کےعلاوہ چوہدری سعید گجر نے بھی اس حلقے سے پی ٹی آئی ٹکٹ کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔ چوہدری سعید احمد گجر کچھ عرصہ سیاسی منظر نامے سے غائب رہے ہیں تاہم اس حلقے میں وہ مضبوط امیدوار ہیں اور آزاد حیثیت میں بھی الیکشن پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا مختصر تعارف اویس سکندر کی زبانی:
چودھری سعید احمد گجر نے 1970 کی دہائی میں سیاست کا آغاز گراس روٹ لیول سے کونسلر منتخب ہو کر کیا۔ اس کے بعد انھوں نے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ٹھرے ۔ وہ دو ادوار میں چھ سال تک کے عرصے کیلئے ڈسٹرکٹ کونسل کے ممبر رہے ۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں ایم پی اے منتخب ہوئے ۔ اس کے بعد مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر 1988 میں مسلسل دوسری بار ایم پی اے منتخب ہوئے۔ تیسری بارمسلم لیگ ن کے ہی ٹکٹ پر 1997 میں ایم پی اے منتخب ہوئے ۔ اپنے تین صوبائی ادوار میں پارلیمانی سیکرٹری رہے ۔۔ جس کے بعد 2002 میں مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر فاروق خان لغاری کی چھوڑی ہوئی سیٹ پر ضمنی انتخابات میں این اے 163، جو کہ اب حلقہ این اے 149 میں ضم ہو چکا ہے، ایم این اے منتخب ہوئے اور چیرمیں اسٹینڈنگ کمیٹی آف ریونیو رہے۔ ان کے اس پانچ سالہ دور میں کسووال شہر کے ساتھ 25 گاؤں میں سوئی گیس دینا ان کا بڑا کارنامہ تھا ۔ 2008 کے الیکشن میں انہوں نے این اے 163 سے آزاد حیثیت سے حصہ لیا تاہم کامیاب نہ ہوسکے۔ ان کے حاصل کردہ ووٹ 17 ہزار 7 سو 8 تھے۔ 2013 کے انتخابات میں انہوں نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا لیکن مسلم لیگ ن کی سپورٹ کی۔ اب وہ حلقہ کی عوام کی فرمائش پر دوبارہ سیاست میں حصہ لے رہے ہیں اور پی پی 202 میں تحریک انصاف کے ٹکٹ کے امیدوار ہیں۔
پیپلز پارٹی کی طرف سے امکان ہے کہ اس باربھی منشاء باٹھ ہی امیدوار ہونگے جو کہ 2013 کے عام انتخابات کے رنر اپ ہیں۔
قلمکار سلمان بشیر کے مطابق ان علاقوں میں نظریاتی ووٹ کم جبکہ دھڑے بندی کا ووٹ زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لنگڑیال خاندان نے گزشتہ الیکشن کے رنرز اپ نعمان لنگڑیال کی والدہ نسیم اقبال اور بہن آمنہ نوید کو بائی پاس کر کے ٹکٹ کے لیے مسعود لنگڑیال کو نامزد کیا ہے۔ جن کہ حلقے میں اتنی پہچان نہیں ہے۔ نظریاتی ووٹ اس علاقے میں صرف اس جنریشن کا ہے جو پڑھ لکھ گئے ہیں۔ وہ دھڑے بندی کی بجائے پارٹی کو ووٹ دینے پر یقین رکھتے ہیں۔تاہم اس حلقے میں نظریاتی ووٹ کی بھی بڑی تعداد ہے۔
پی پی 202 کے سیاسی منظرنامے میں سب سے زیادہ کشمکش پی ٹی آئی کے امیدواران میں پائی جاتی ہے۔ جہاں لنگڑیال خاندان اور چوہدری سعیداحمد گجر خاندان اپنی اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑیں گے۔ بظاہر پی ٹی آئی کے لیے مشکل فیصلہ ہو گا کہ لنگڑیال خاندان کو بائی پاس کر کے میجر (ر) غلام سرور یا چوہدری سعید احمد گجر کو ٹکٹ سے نوازیں۔ جبکہ ٹکٹ کے سلسلے میں مسلم لیگ ن کے چوہدری حنیف جٹ یا چوہدری شاہد منیر کےلیے میدان صاف ہے اور کم از کم انہیں ان مسائل کا سامنا نہیں ہے جو پی ٹی آئی کے امیدواران کو ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے