Home / کالم / سی پیک کا دوسرا مرحلہ — ڈاکٹر ابراہیم مغل
urdu columns
urdu columnist

سی پیک کا دوسرا مرحلہ — ڈاکٹر ابراہیم مغل

بے شک امید پہ دنیا قا ئم ہے، اور خدا پا ک کی ذا ت مسبب الاسبا ب ہے۔ وطنِ عز یز میں جہا ں اس دم بے امنی اور کر پشن کا دور دورہ ہے،کچھ اچھے مستقبل کی امید بھی سا نسیں لیتی ہو ئی اٹھ کھڑ ی ہو ئی ہے۔
چنا نچہ ایک ایما ندا ر اور بے با ک صحا فی جو حکو مت کی غلطیو ں اور نا ا نصا فیو ں سے پر دہ اٹھا نے سے نہیں چو کتا، و ہیں اس کا حب الو طن ہو نے کے نا طے سے حکو مت کی محنت اور اور اس کے ثمر ا ت کو سرا ہنا بھی فر ض ہے۔
اب اس تمہید کے بعد گذ شتہ ما ہ کے آ خر ی ہفتے کے دوران وز یرِ ا عظم پا کستا ن کے دورہِ چین پہ روشنی ڈ النا خو شی اور ا مید کا با عث ہے۔ان کا چار روزہ دورۂ چین، دو طرفہ تعلقات، خاص طور پر پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔
سی پیک جو دو ملکوں کے مابین ہی نہیں بلکہ دنیا کے دو حصوں کے درمیان اقتصادی رابطوں کا ایک اہم ذریعہ بن کر سامنے آرہا ہے، اب عملی طور پر دوسرے مرحلے میں داخل ہوا چاہتا ہے۔
پہلا مرحلہ جو انفراسٹرکچر اور توانائی کے وسائل کی تعمیر پر مبنی تھا، تکمیل کے قریب پہنچ چکا ہے، اور خوش قسمتی یہ ہے کہ دنیا کے اس حصے میں اقتصادی رابطوں کا یہ اہم ترین منصوبہ مقررہ وقت اور منصوبہ بندی کے دین مطابق مکمل ہورہا ہے۔ پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے انفراسٹرکچر کے ان بڑے بڑے منصوبوں کا ٹائم فریم کے مطابق مکمل ہونا بذات خود سی پیک کی کامیابی اور اس کے کلیدی شراکت داروں کی سنجیدگی کا ثبوت ہے۔
یہ سنجیدگی سی پیک کے ثمرات کو نمایاں کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اور اس سے امید پیدا ہورہی ہے کہ اس خطے کے دیگر کئی ممالک پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ بن کر مستقبل کے ان اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دوڑ میں شامل ہوچکے ہیں۔ سی پیک کا دوسرا مرحلہ صنعتی اور اقتصادی زونز پر مبنی ہے، اور اب اس کی شروعات کا وقت ہے۔
ان سپیشل اکنامک زونز کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں نو مقامات منتخب کیے گئے ہیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ سی پیک سے منسلک سپیشل اکنامک زونز پاکستان میں صنعتکاری کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوں گے۔ عملی طور پر سی پیک کے ثمرات ان اکنامک زونز کی تعمیر پر منحصر ہیں۔ کیونکہ شاہراہوں، پلوں اور انفراسٹرکچر کے دیگر منصوبوں کی تکمیل اس وقت تک اقتصادی طور پر بار آور نہیں ہوسکتی جب تک کہ ان کے ساتھ وسیع پیمانے کے صنعتی ڈھانچوں کو نہ جوڑا جائے۔ شاہراہوں کا یہ جال اسی صورت عوامی اقتصادی زندگیوں پر مثبت اثرات کا حامل ثابت ہوگا جب صنعتی سرگرمیاں فروغ پائیں گی، لوگوں کو روزگار اور ملک کو ریونیو حاصل ہونا شروع ہوگا۔ سی پیک کے اس مرحلے پر سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق چین تعلیم، صحت، زراعت، نکاسی آب اور انسانی ترقی کے 27 منصوبوں پر ایک ارب ڈالر خرچ کرے گا۔ اس سرمایہ کاری کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں اقتصادی راہداری کا بیشتر حصہ ان علاقوں میں ہے جو محرومی کے لحاظ سے ملک میں پست ترین شمار ہوتے ہیں۔ بنیادی انسانی سہولتوں سے محروم ان علاقوں میں بین الاقوامی اہمیت کے اقتصادی منصوبوں کی کامیابی کے لیے لازمی ہے کہ زندگی کی لازمی ضروریات اور سہولیات فراہم کرکے ان محروم عوام کا اعتبار جیتا جائے۔ بین الاقوامی سطح کے اقتصادی منصوبوں کی کامیابی اس میں ہے کہ ان کا پر تو مقامی آبادی کی زندگی پر بھی نظر آئے۔ اگر یہ ہوجائے تو اقتصادی راہداری کے خلاف ہر قسم کے پروپیگنڈے کے سامنے یہ لوگ ڈھال بن جائیں گے۔
چین کی جانب سے اقتصادی راہداری سے جڑے سماجی ترقی کے منصوبوں میں پہلی ترجیح بلوچستان اور سندھ کے محروم علاقوں کو دینا ہوگی۔ بلوچستان کے محروم علاقے ان ترقیاتی منصوبوں کے سب سے بڑے حقدار ہیں کہ گوادر جو اس گراں بہا منصوبے کا مرکز ہے آج بھی اس شہر کی آبادی پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے، دوسری سہولیات کا بھی یہی حال ہے۔ چنانچہ اس قسم کے حالات دشمنوں کو فواہیں پھیلانے اور پروپیگنڈا کرنے کا موقع دیتے ہیں، اقتصادی سرگرمیاں جن کی تاب نہیں لاسکتیں۔ وزیر اعظم کے دورے کے موقع پر چین کے ساتھ دوسرے آزاد تجارتی معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت چین نے پاکستان کی 313 منصوعات کو ہر طرح کے ٹیکسوں سے استثنیٰ دیا ہے۔ چین کے ساتھ دوستی کو ہم ہمالیہ سے اونچی اور سمندر سے گہری قرار دیتے ہیں مگر چین کے ساتھ ہمارا تجارتی خسارہ ہمارے تعلقات کے لیے اکثر ایک چیلنج بن جاتا ہے۔
گزشتہ برس چین سے گیارہ ارب ڈالر سے زائد کا سامان درآمد کیا گیاجبکہ ڈیڑھ ارب ڈالر کے قریب مالیت کا سامان چین کو برآمد کیا گیا۔ یوں دو طرفہ تجارت میں پاکستان کا خسارہ نو ارب ڈالر سے زائد تھا۔ اس غیر معمولی حجم کے تجارتی خسارے کی بنا پر بھی پاک چین تعلقات کے ناقدین کو باتیں بنانے کا موقع ملا۔ اب دوسرے فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخطوں اور پاکستان کی مزید 313 مصنوعات کی ڈیوٹی فری ترسیل پاکستانی صنعتکاروں کے لیے چین کو برآمدات بڑھانے کا بہترین موقع ہے۔
ہمارے صنعتکاروں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بھی ہے کہ وہ اس موقع سے کس طرح اور کس قدر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جہاں تک چین کے ساتھ تجارتی توازن کا تعلق ہے تو چینی صنعت کے حجم کے مقابلے میں پاکستانی صنعت کا حجم نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے چین سے درآمدات کے برابر برآمدات تو موجودہ پاکستانی صنعتی پیداوار کے ساتھ ممکن نہیں؛ البتہ اس عدم توازن کو جس قدر کم کیا جاسکے دونوں ملکوں کے مفاد میں ہوگا۔ چنانچہ اب پاکستانی صنعتکاروں پر بھی بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے جو مقابلے کی دنیا میں معیار کی بہتری کے ذریعے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی بجائے مجبوریوں اور مسائل کی شکایتوں کے عادی ہوچکے ہیں۔ پاکستانی صنعتکاروں کو اپنے چینی دوستوں سے سیکھنا ہوگا کہ مقابلے کی اس دنیا میں اپنا حصہ پانے کے لیے کس طرح محنت کے ساتھ آگے بڑھتے اور اپنی جگہ بناتے ہیں۔
ہما ر ے وزیر اعظم نے بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خطاب کرتے ہوئے سی پیک کے تحت تعاون کے 5 نکات پیش کیے، جو یہ ہیں: درخت لگانے کے منصوبوں کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کی روک تھام، بی آر آئی سیاحتی راہداری کا قیام، بدعنوانی کے خلاف تعاون کے لیے شعبے کا قیام، غربت مٹاؤ فنڈ کی تشکیل اور تجارتی آزادی، اور نجی شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی۔ جنابِ وزیر اعظم کا یہ پانچ نکاتی فارمولا اس حوالے سے صائب ہے کہ اس پر کام کرنے کے مثبت اثرات و نتائج سامنے آنے کی توقع کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ مندرجہ بالا تمام نکات پر ٹھیک طریقے سے کام کیا گیا تو ہماری قومی معیشت کا گراف خودبخود بلند ہونا شروع ہوجائے گا۔
دنیا بھر میں پچھلے کچھ عرصے سے جاری غیر یقینی جیو پولیٹکل صورتحال اور تجارت میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور رکاوٹوں کی موجودگی میں یہ منصوبہ تعاون، اشتراکیت، روابط اور مشترکہ خوشحالی کا باعث بن سکتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ان نکات کو بروئے کار کیسے لایا جائے گا جبکہ حکومت گزشتہ آٹھ نو ماہ میں معاشی ترقی کے حوالے سے کوئی ایک ہدف بھی پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے؟ وزیر اعظم کا یہ کہنا تو خوش آئند ہے کہ پاکستان کی معاشی صورت حال کا نقشہ اور اپنے عوام کی زندگیاں بدلنے والے ہیں، لیکن حالات کا جائزہ لیں تو اس سوال کا کوئی جواب کہیں نظر نہیں آتا کہ کیسے؟ ممکن ہے وزیر اعظم کے ذہن میں اس کا کوئی خاکہ ہو۔ اگر ہے تو انہیں عوام کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے۔
اس حقیقت سے کون ذی شعور انکار کرسکتا ہے کہ معاشی ترقی اور اقتصادی بڑھوتری کے لیے سب سے پہلے اس ملک اور پھر اس خطے میں پائیدار امن قائم ہونا ضروری ہے۔ پاکستان میں تو مسلح آپریشنوں کے ذریعے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی جاچکی ہے اور امن و امان کی صورت حال چند سال پہلے کی نسبت بہت بہتر اور اطمینان بخش ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بھی بہتر اور پُرامن رہیں اور مستقلاً رہیں۔اس سلسلے میں دو اطراف سے تو کچھ ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہیں، لیکن تیسری جانب ایک نئی صورت حال جنم لے رہی ہے۔ وزیر اعظم نے توقع ظاہر کی ہے کہ بھارت میں الیکشن کی تکمیل کے بعد اس پڑوسی ملک کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ اگر واقعی ایسا ہو جاتا ہے تو یہ سو نے پہ سہا گہ وا لی با ت ثا بت ہو گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے