Home / کالم / ڈی پی ایس چیچہ وطنی میں گزرا وقت
urdu columnist awais

ڈی پی ایس چیچہ وطنی میں گزرا وقت

تحریر : چودھری محمد اویس سکندر
عزت ماب جناب محمد مدثر رضوان صاحب وائس پرنسپل ڈویژنل پبلک سکول وکالج چیچہ وطنی سے ایک سال پہلے ایک وعدہ کیا تھا کہ ایک دن ڈویژنل پبلک سکول و کالج چیچہ وطنی کے بارے میں تفصیلی کالم لکھوں گا ۔ آج اپنے پرانے کالج کے بارے میں کالم لکھنے کا سوچا تو لکھنے ہی بیٹھا تھا کہ مسجد میں عشاء کی آذان ہوگئی ۔ دل نے بہت کہا اویس میاں پہلے کالم لکھ لو بعد میں نماز پڑھ لینا لیکن یہ دماغ دل کی کہا ں سننے دیتا ہے ۔ دماغ نے آتے ہی کہا جس شخص کا تذکرہ کر ہے ہو وہ بھی نماز کا بڑا پابند ہے ۔ میں نے جلد ہی اپنے فیصلہ بدلا اور وضو کیا نماز پڑھی اور قلم اٹھا کر لکھنا شروع کردیا ۔ جناب مدثر رضوان صاحب نماز کے بڑے پابند تھے مجھے یاد ہے جب میں اسکول میں داخل ہونے گیا تھا تو ان کے ماتھے پر دو گہرے کالے رنگ کے محرابوں نے ہی مجھے نماز پڑھنے کی جانب مائل کیا اور رہی کسر اردو کی ایک ٹیچر میڈم سمعیہ خلیل نے نکال دی انھوں نے نوجوانی کی عبادت اور اس کی فضیلت پر جب روشنی ڈالی تو میں نے نماز پڑھنے کا پختہ ارادہ کر لیا مگر ایک آدھ نماز ہی دن میں پڑھتا تب میں نویں جماعت کا طالب علم تھا ۔ انھی دنوں میں پیر عمران احمد شاہ ولیؒ نے مجھے سختی سے نماز پرھنے کا کہا تو نماز اویس کی زندگی کا حصہ بن گئی۔
میں دراصل اس ادارے کے متعلق لکھنا چاہتا ہوں جس نے مجھے بہت کچھ دیا ہے ۔ اس ادارے نے ایک نالائق طالب علم کو پہلے شاعر بنایا اور بعد میں وہ نالائق طالب علم جب اس ادارے سے نکلا تو وہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ صحافی اور کالم نگار بھی بن چکا تھا ۔ ڈویژنل پبلک اسکول و کالج نے مجھے بہت کچھ دیا ہے ۔ خاص طور پر مجھے وہ اساتذہ ملے جنھوں نے قدم قدم پر ناچیز کی حوصلہ افزائی کی ۔ ان میں قابل ذکر جناب کاشف بشیر کاشف صاحب اور جناب ارشد فاروق بٹ صاحب نے تو میری ہر دور میں راہنمائی کی۔ میں آج ڈویژنل پبلک اسکول کا حصہ نہیں ہوں مگر پھر بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ میں اس ادارے میں شامل ہوں ۔ ڈویژنل پبلک اسکول و کالج نے چیچہ وطنی کو بہت سے ڈاکٹر ، انجینئر ، سیکنڈ لیفٹینٹ ، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ دیے ہیں وہاں پر ایک شاعر ، صحافی اور کالم نگار بھی چیچہ وطنی کو دیا ہے اور یہ ڈویژنل پبلک اسکول و کالج کے اساتذہ کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ وہ چیچہ وطنی کو ایک پڑھا لکھا معاشرہ بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ مجھ ناچیز پر جناب محمد مدثر رضوان صاحب وائس پرنسپل ڈویژنل پبلک اسکول و کالج چیچہ وطنی کی خصوصی نظر رہی ہے اور آج بھی وہ میری حوصلہ افزائی کرتے ہیں جس پر میں انکا بہت شکرگزار ہوں ۔
ڈویژنل پبلک اسکول و کالج چیچہ وطنی نے مجھ ایسے ایسے دوست دیے ہیں جو شائد میں کہیں اور ہوتا تو وہ مجھے نا مل سکتے ان میں خاص طور پر میرے جیسا انتہا درجے کا نالائق فیضان انصاری، راناسانول خان ، فرغام ، احمد حسن عسکری اور اگر ایسے ہی گنواتا چلا گیا تو ایک لمبی فہرست بن جائے گی ۔بلکہ میں اور فیضان تو اسکول سب سے شرارتی بچے ہوا کرتے تھے ۔ ایک دن اسکول میں بچوں کے پیپر ہورہے تھے اور بچے اپنی کتابیں اور وہ شاپر جن میں انکا پیپر دینے کا سامان ہوتا ہے وہ پیپر دینے کے بعد چھوٹے گراؤنڈ (جہاں اب سائکل اسٹینڈہے) میں پڑے تھے اور وہ بڑے گراؤنڈ میں کھیلنے میں مصروف تھے اور مجھے اور فیضان کو بیٹھے بیٹھے شرارت سوجھی جو آج تک ہمارے علاوہ کسی کو معلوم نہیں۔ پھولوں کی کیاریوں میں پانی لگا ہوا تھا اور مین نے اور فیضان نے پانی کا رخ اس طرف کردیا جہاں بچوں کی کتابیں وغیرہ پڑی ہوئی تھیں اور پھر کیا تھا دس منٹ کے اندر اندر چھوٹا گراؤنڈ پانی سے بھرا ہواتھا اور بچے اپنی کتابوں اور بیگوں کو پانی میں نہاتا دیکھ رہے تھے ۔ یہ میری اور فیضان کی ایسی شرارت تھی جس کا آج تک ہمارے علاوہ کسی کو معلوم نہیں تھا ۔
آج پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ میں کالم کا آغاز کر رہا ہوں اور وہ ختم ہوگیا ہے ابھی تو بہت کچھ باقی تھا ۔ یہ صرف اور صرف ڈویژنل پبلک اسکول و کالج چیچہ وطنی میں گزارے ہوئے چند لمحات کا قصہ تھا کہانی تو ابھی میں نے شروع کرنی تھی پر کیا کیا جائے کہ مجبوری اس بات کی اجازت نہیں دیتی مجھے اپنے الفاظ کو سمیٹنا ہوگا ان الفاظ کو جو کبھی سمیٹے نہیں جاسکتے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے زندگی دی تو میں ڈویژنل پبلک اسکول و کالج کے بارے میں ایسے ہی لکھتا رہوں گا تاکہ کچھ تو من سے بوجھ اترے ۔ میں آخر میں پھر جناب محمد مدثر رضوان صاحب کا شکرگزار ہوں کہ وہ ہر موڑ پر میری حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں۔ میری کوشش ہوگی کہ میں دویژنل پبلک اسکول و کالج چیچہ وطنی کہ بارے میں ایسے ہی لکھتا رہوں ۔ آخر میں میری اللہ تعالیٰ کی ذات سے یہ دعا ہے کہ ڈویژنل پبلک اسکول و کالج اسی طرح ستاروں میں چاند کی مانند چمکتا رہے اور اسی طرح چیچہ وطنی اور اس معاشرے کو پڑھے لکھے نوجوان دیتا رہے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے