جمعرات , 17 اکتوبر 2019
Home / ساہیوال فیچرز / تاریخ بوریوالا – History of Burewala
burewala news

تاریخ بوریوالا – History of Burewala

ملتان روڈ اور ستلج دریا پر واقع شہر بوریوالا کا نام یہاں پر ماضی میں بسنے والے ایک سکھ بابا بورا کے نام سے منسوب ہے . یہ علاقہ پاکپتن نہر کی تعمیر سے پہلےجنگل تھا جہاں بعد میں لنگڑیال خاندان نے آ کر باقاعدہ آبادی کی بنیاد رکھی . 1950 تک یہ آبادی غیر معروف اور کھیتی باڑی سے اپنا روز گار چلاتی رہی لیکن 1951 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ میاں ممتاز دولتانہ نے بوریوالا ٹیکسٹائل مل (بی ٹی ایم) کی بنیاد رکھی جسے 1954 میں داؤد لارنس کے مالک اور ملک کے بڑے سرمایہ کار سیٹھ احمد داؤد نے خرید لیا . یہ بوریوالا کی ترقی کا نیا باب تھا جس نے اسے ایک قصبے سے چھوٹے شہر اور اس چھوٹے شہر کو ملک کے بڑے کاروباری مرکز میں تبدیل کر دیا . اس مل میں بوریوالا کے ساتھ دوسرے شہروں کے بہت سے لوگ روزگار کے لئے ادھر کا رخ کرنے لگے .

1971 کے آخر تک اس مل کا ستارہ عروج پر تھا اور اسکا شمار ایشیا کی بڑی ملز میں ہونے لگا تو اسی دوران 1972 میں زوالفقار علی بھٹو نے نیشنلزم پالیسی کے تحت اس مل کو سب سے پہلے حکومتی تحویل میں لے لیا، اسی دوران جنرل یحییٰ کے لیگل فریم آرڈر کے تحت دولتانہ خاندان پر سیاسی پابندی عا ئد کر دی. ایک بڑے سیاسی اور دوسرے بڑے کاروباری ٹائیکون کی غیر موجودگی میں خالی میدان دیکھتے ہوئے بہت سے موجودہ لیڈرز کی کھیپ نے سیاسی جنم لیا .

بھٹو کا دور حکومت ختم ہونے کے بعد ایک بار پھر یہ مل سیٹھ داؤد کو سونپ دی گئی اور پھر سے انہوں نے اس شہر کی ترقی کا عزم کرتے ہوئے یہ عہد کیا کہ اس شہر کو پیرس کی طرز پر بنایا جائے گا . بوریوالا ایک بار پھر ترقی کے سفر پر گامزن ہونے لگا. سیٹھ داوود کی عوامی خدمات اور بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت سیاسی پنڈتوں کے لئے خطرہ بن کے سروں پر منڈلانے لگی .1985 سے 1993 تک 3 بار ایم این اے اورایک بار وفاقی وزیر رہنے والے سید مہدی نسیم شاہ اس شہر کی تعمیر و ترقی میں تو دلچسپی نہ لے سکے لیکن مقامی سياستدانوں نے بی ٹی ایم کی لیبر یونین کے لیڈرز بابا غنی اور باؤ ریاض کے ساتھ مل کر سیٹھ داؤد کو ہڑتالوں سے تنگ اور مزدوروں سے آئے دن انکے خلاف نعرے بازی اور بدزبانی کروانے کا سلسلہ شروع کر دیا . سیٹھ داؤد نے آخر اس واقعے جس کا ذکر ہم اپنی پچھلی بخاری صاحب کی تحریر میں کر چکے ہیں میں اپنی تضحیک کے بعد بوریوالا ہمیشہ کے لئے چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا. ان کی روانگی کے بعد بوریوالا کی ترقی نے بھی شہر سے منہ موڑ لیا جس کے بعد نہ صرف مل بند ہو گئی بلکہ شہر میں بیروزگاری کے ساتھ سٹریٹ کرائمز ، چوری ، ڈکیتی اور دوسرے جرائم میں بے انتہا اضافہ ہونے لگا .

1993 سے 1996 میں قربان علی چوہان نےاس شہر کو کچھ پروجیکٹس دیئے اور 1997 سے 1999 میں چوتھی بار ایم این اے بننے والے نسیم شاہ کے دور میں بہت معمولی حد تک ترقیاتی کام ہوئے . 2002 میں قاف لیگ کے چودھری نذیر جٹ نے جنرل مشرف کی جاری کردہ گرانٹ کو کافی حد تک عوام کے لئے استعمال کیا. اسی دوران جنرل مشرف کے اس زون میں گرینڈ سوئی گیس منصوبہ سے جہاں بہت سے شہر مستفید ہوئے وہاں بوریوالا نے بھی فائدہ اٹھایا اور نذیر جٹ کی دلچسپی نے بوریوالا کو کچھ منصوبے دیے اور اسےضلع وہاڑی کی اگلی صف میں لا کھڑا کیا .

2005 کے بلدیاتی الیکشن میں ایک بار پھر بوریوالا کو سنوارنے کا موقع ملا جہاں پنجاب کے ہر شہر میں اربوں کے فنڈز جاری کے گئے۔ایک بار پھر جہاں ضلع ناظم نسیم شاہ نے بوریوالا میں عدم دلچپسی لی وہیں بوریوالا تحصیل ناظم عثمان وڑائچ نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام اختیارات اپنے نائب ناظم غلام مصطفیٰ بھٹی کو سونپ دیے.

اس دوران جہاں وہاڑی میں میاں ثاقب خورشید نے شہر کو بیشمار ترقیاتی اور معاشی منصوبے دیے وہاں غلام مصطفیٰ بھٹی اپنے بھائیوں ، رشتےداروں اور دوستوں کو کروڑوں کے پروجیکٹس دونوں ہاتھوں سے نوازتے رہے ان میں زیادہ تر منصوبے کاغذوں تک ہی محدود رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہاڑی اس دوران بوریوالا سے بہت آگے نکل گیا .

2008 میں چوہدری نذیر جٹ کے نااہل ہونے کے بعد انکے بھتیجے اصغر کچھ خاص کارکردگی نہ دکھا پائے اسمیں نئے منتخب ہونے والے ایم این اے کے علاوہ پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت بھی ذمہ دارتھی۔

2013 میں بننے والے ایم این اے اور سابقہ صوبائی وزیرچودھری نذیر آرائیں شہرکےترقیاتی کاموں میں عدم دل چسپی والی سابقہ پالیسی پر گامزن ہیں . نیز سابقہ صوبائی وزیر جناب محمود گھمن اور اب تک رہنے والے صوبائی اسمبلی کے ممبران نے بھی ہمیشہ شہر میں عدم دل چسپی کا مظاہرہ کیا ہے.

اس تحریر کے توسط سے میں اپنے قارئین کے آگے ایک سوال رکھتا ہوں کہ ہم روز وزیراعظم کو گالیاں دیتے ہیں لیکن اپنے مقامی لیڈرز جنہوں نے ذاتی مفاد پر شہر کے مفاد قربان کئے انکے آگے ہاتھ جوڑ کے کھڑے ہونے ، انکے ساتھ فوٹو سیشن کروانے میں فخر محسوس کرتے ہیں تو میرا آپسےسوال ہے۔ کیا ہم کنفیوذڈ لوگ نہیں ؟ کیا ہمارا رویہ قابل مذمت نہیں؟

About Muhammad Saeed

Avatar
I am Muhammad Saeed and I’m passionate about world and education news with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind Sahiwal News with a vision to broaden the company’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Mehar Abad Colony, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Phone: (+92) 300-777-2161 Email: admin@sahiwalnews.com.pk

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے