Home / آس پاس / نو لکھی کوٹھی اوکاڑہ
history of okara district

نو لکھی کوٹھی اوکاڑہ

اوکاڑہ میں ایسی بہت سی تاریخی عمارتیں ہیں جنہیں ثقافتی ورثے کا حصہ بنا کر محفوظ رکھا جا سکتا تھا تاہم اداروں کی نااہلی و لاپرواہی کے باعث متعدد تاریخی مقامات معدوم ہو چکے ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان عمارات کا تحفظ حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

اسی طرح انگریزوں نے 1912ء میں جب نہر لوئر باری دوآب کو رواں دواں کیا تو 13-1914 کی پہلی آبادکاری میں لارڈ کول نے اوکاڑہ شہر کے شمال کی طرف چھ کلومیٹر کے فاصلے پر نو ہزار ایکڑ جنگل کو آباد کیا۔

لارڈ کول نے اِس اراضی کو آباد کرنے کے لیے بالکل ایسا ہی نظام متعین کیا جیسے کسی ریاست کا نظام چلانے کیلئے متعین کیا جاتا ہے۔

اس اراضی میں سات چکوک 27، 28، 29، 30، 31، 34 دو آر اور 28 دو اے آر شامل تھے جن کو آج کل کلیانہ سٹیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

جس کا مرکزی دفتر نواحی گاؤں 34 دو آر میں بنایا گیا اور یہاں کا نظام چلانے کیلئے نولکھی کوٹھی تعمیر کی گئی جو اُس وقت خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھی۔

نولکھی کوٹھی کا رقبہ تین ایکڑ ہے اور اِس کی تعمیر میں نو لاکھ روپے کا خرچہ آیا تھا اسی لیے اسے نولکھی کوٹھی کہا جانے لگا۔
قیامِ پاکستان کے بعد تک لارڈ کول کی پوتی ملر یہاں رہائش پذیر رہیں اور تب تک یہ کوٹھی کسی بھی ریاست میں بادشاہ کے محل کا درجہ رکھتی تھی۔

کوٹھی سے ملحقہ دفاتر، ملازمین کی رہائش گاہیں، غلہ گودام، لائبریری، ڈسپنسری اور گھوڑا فارم بھی تھے لیکن یہ سب اب وقت کی دھول میں کھو چکے ہیں اور اس وقت یہاں صرف نولکھی کوٹھی ہی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہے۔نو لکھی کوٹھی کے اندرونی کمرے، چھتیں اور دروازکھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
کوٹھی کے ساتھ ملحقہ لان تین ایکڑ اور آموں کا باغ 12 ایکڑ رقبے پر محیط ہے جہاں پر لکھنؤ سے اعلیٰ قسم کے آموں کے پودے منگوا کر لگائے گئے تھے۔

نولکھی کوٹھی میں اِس وقت 22 کمرے، چار باورچی خانے، روشنی کا بہترین انتظام، لاک سسٹم، فرش، کتابوں کی الماریاں، لیمپ اور مہمان خانہ کی چھت محدب گنبد نما اِس کے خوبصورت طرزِ تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

دیواروں کی تعمیر اس وقت کے فن تعمیر کا اعلیٰ نمونہ پیش کر رہی ہیں اور تعمیر میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا تھا کہ یہ کوٹھی گرمیوں میں ٹھنڈی اور سردیوں میں گرم رہے۔

مِلر کے بعد یہ جگہ جلال پور جٹاں کے نواب سر مہر علی شاہ کو الاٹ کر دی گئی جس کے بعد ان کے بیٹے نوابزادہ مقبول حسین کے حصے میں آئی۔

اس کے بعد 2014ء تک نواب شمس حیدر یہاں مقیم رہے لیکن عدالتی حکم کے باعث وہ یہاں سے کوچ کر گئے اور جاتے ہوئے اِس کوٹھی کا تمام نادر و نایاب سامان اپنے ساتھ لے گئے اور اب یہ صرف ایک خستہ حال خالی عمارت رہ گئی ہے۔

اِس علاقہ کے نمبردار مہر منشاء 1965 سے نمبرداری کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا جب نولکھی کوٹھی میں زندگی کی رونقیں تھیں، اِس کی خوبصورتی اور باغ ہمارے گاؤں کی پہچان تھے مگر اس ورثہ کی حفاظت نہ ہونے سے اب ایک کھنڈر کا منظر پیش کر رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اِس کوٹھی میں کمرے اور راہداریاں اِس طرح تعمیر کی گئی تھیں کہ جو شخص ایک دروازے سے کوٹھی کے اندر داخل ہوتا دوبارہ اسی دروازے سے اس کا باہر آنا بہت مشکل تھا اور جو شخص اسی دروازے سے باہر آ جاتا تھا اس کو 500 روپے اور پگ بطور انعام دی جاتی تھی۔

مہر منشاء کا کہنا ہے کہ مِلر گاؤں کے لوگوں، خصوصاً خواتین کا بہت خیال رکھتی تھیں اور گاؤں کی صفائی ستھرائی کے حوالے سے جو عورت اپنا گھر سب سے زیادہ صاف ستھرا رکھتی اسے 500 روپے انعام دیتی تھیں۔

“بلاشبہ جب تک یہ کوٹھی آباد تھی ہمارا گاؤں ایک ریاست سے کم نہ تھا جہاں کا ایک مکمل انتظام و انصرام ہوتا ہے مگر اب ہمیں ایسا لگتا ہے جیسے یہ کوٹھی نہیں ہمارا گاؤں ہی اجڑ گیا ہے۔”

وہ کہتے ہیں کہ نولکھی کوٹھی جیسی تاریخی عمارات جو کہ ضلع اوکاڑہ کی آبادکاری اور تاریخی حوالے سے بہت اہمیت رکھتی ہیں اِن کو نہ صرف حکومتی تحویل میں لینا چاہیئے بلکہ اگر اِس طرح کی تاریخی عمارتوں کو پارک، سکول یا لائبریری وغیرہ کا درجہ دے دیا جائے تو ان کی خوبصورتی بحال رکھی جا سکتی ہے۔

کوٹھی کے زوال کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ دراصل اِس کوٹھی کا زوال ایوب خان کے دور حکومت میں شروع ہوا جب انہوں نے گھوڑی پال سکیم کے تحت یہ زمین فوج کے افسران کو الاٹ کرنا شروع کر دی اور نواب آہستہ آہستہ اپنا رعب و جلال کھوتے رہے یہاں تک کہ ان کو یہاں سے بے دخل ہی کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ اب یہ جگہ 2014ء کے بعد پاک فوج کے میجر رضا کو 10 سال کیلئے الاٹ کی گئی ہے۔

نولکھی کوٹھی کے بارے میں نوجوان محقق احمد نواز الغنی کا کہنا ہے کہ نولکھی کوٹھی کے قریب ریونیو ریکارڈ اور غلہ گودام کا ریکارڈ مرتب کرنے کیلئے دو کوٹھیاں اور بھی تھیں جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ بالکل معدوم ہو چکی ہیں۔

خوبصورت فن تعمیر کے اِس نمونہ کو دوبارہ اِسی حالت میں قائم کیا جائے تو نہ صرف یہ ہمارے لیے تاریخی یادگار کے طور پر محفوظ رہے گی بلکہ تاریخ کے متلاشیوں کیلئے خصوصی توجہ کا مرکز بھی ثابت ہو گی۔ یاد رہے کہ نو لکھی کوٹھی پر علی اکبر ناطق کا ناول بھی شائع ہو چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے