Home / ساہیوال فیچرز / ساہیوال کو ساہی قوم سے کیوں منسوب کیا جاتا ہے؟
history of sahi tribe and sahiwal

ساہیوال کو ساہی قوم سے کیوں منسوب کیا جاتا ہے؟

کاشف حنیف
ساہیوال کو منٹگمری کی بجائے ساہی قوم کے نام سے منسوب کئے جانے کی وجہ کیا تھی؟ یہ ساہی کون تھے کیا وہ بنیادی طور پر پہلے ہی ساہیوال میں آباد تھے نیز یہ قبیلہ اس سے پہلے کہاں رہائش پزیر تھا۔ ساہیوال کی تعمیر و ترقی میں ان کا کیا کردار تھا کہ ایک قوم کا نام ہی ایک شہر کے نا م سے منسوب کر دیا گیا یہ الگ بات کہ ساہی قوم کے افراد ساہی وال میں ڈھونڈنے سے بھی بہت مشکل سے نظر آتے ہیں۔

ساہی وال کے نواحی گاؤں ٹھٹھہ کے رہائشی ساجد علی ساہی جن کا تعلق اپنے گاؤں کے نمبر دار گھرانے سے ہے۔ وہ ان تمام سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ساہیوال میں ساہی قوم کی آمد یا آباد کاری محض اتفاقیہ انداز سے شروع ہوئی تھی۔ 1870 سے پہلے تو ساہیوال میں ساہی قوم کا وجود ہی نہیں تھا۔ 1880 کے دورانیے کے قریب فیصل آباد کے نواحی گاؤں ساہیانوالہ کا ایک رہائشی اور حالات کی ستم ظریقی کا شکار عیدل کھرل ساہی نام کا ایک چرواہا عیدل چک میں آیا۔

اس کے عیدل چک ہجرت کرنے کے پیچھے بڑی وجہ اپنے آبائی علاقے میں مسلسل لڑائی جھگڑے وغیرہ تھے جن سے بچنے کے لیے یہ ہمیشہ کے لیے یہاں آ کر آباد ہو گیا۔ اس کی یہاں آمد سے پہلے یہاں مردانے آباد تھے۔ اس گاؤں میں ڈکیتی اور راہزنی کی بہت سی وارداتیں ہوا کرتی تھیں دریائے راوی کے دوسرے کنارے سے ڈاکو گروہوں کی شکل میں آتے اور پورے کے پورے گاؤں کی جمع پونجی لوٹ کر فرار ہو جاتے تھے۔ عیدل کھرل ساہی نے مُردانوں کے ساتھ مل کر بہادری سے ان ڈاکوؤں کا مقابلہ کیا اور اس لڑائی میں بہت سے ڈاکو مارے گئے اور باقی ہمیشہ کے لیے فرار ہو گئے۔

مُردانوں نے عیدل کی اس بہادری کے بدلے اُسے 25 مربع زمین تحفہ میں دے دی اور اور ساتھ ساتھ گاؤں کا نام بھی چک عیدل رکھ دیا۔
یہ انگریزوں کا دورِ حکومت تھا۔ عیدل 25 مربع زمین تحفہ میں عنائیت ہونے کے باوجود اپنا مویشی چرانے کا پیشہ ترک نہ کر سکا اور 25 مربع زمین پر کوئی کاشتکاری نہیں کی ۔ لیکن اسے ہر سال بھاری مویشی اور زرعی ٹیکس دینا پڑتا تھا۔ لہذا عیدل ساہی ایک مرتبہ پھر وہاں سے ہجرت کر کے ساہی وال میں موجودہ یادگار کے نزدیک آ کر آباد ہو گیا۔

اس دوران ضلع بنگلہ گوگیرہ میں انگریزوں کو کھرلوں کے ہاتھوں بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اور وہ ساہیوال میں آ کر آباد ہو گئے اور ساہی وال کو نئے ضلع کا درجہ دے دیا۔ ساتھ ہی بنگلہ گوگیرہ کی ضلعی حیثیت ختم کر دی گئی اور ایک آباد کار جگہ کو لینے کے لیے عیدل ساہی کو آفر دی گئی کہ جہاں تک گھوڑا دوڑا لو زمین تمہاری۔ عیدل نے اس کے بدلے بھیڑوں، مویشیوں اور زمین پر لگنے والے ٹیکس معاف کرنے کی درخواسست کی جسے انگریز سرکار نے فوری قبول کر لیا۔

اب ساہیوال میں لارڈ منٹگمرے کی آمد ہوئی تو اس نے ساہی وال کو منٹگمری کا نام دے دیا۔ اور بہت عرصہ تک یہ شہر منٹگمری کے نام سے ہی جانا جاتا رہا۔ اس تمام عرصہ کے دوران ساہی قوم آبادی کے لحاظ سے آہستہ آہستہ تعداد میں بہت زیادہ ہو گئی۔ یہ تعداد میں زیادہ تھے لیکن اثرو رسوخ زیادہ نہیں تھا۔ لہذا شہر کا نام منٹگمری ہی چلتا رہا۔ اور ساہی قبیلے کے افراد منٹگمری کے چند ایک دوسرے دیہات میں منتقل ہو گئے۔

جنرل ایوب خان کے دور میں جنرل موسیٰ خان کے منٹگمری میں ایک جلسے کے دوران ساہی قوم کی درخواست پر منٹگمری کا نام دوبارہ ساہیوال رکھ دیا گیا۔ اور جس مقام پر ساہی قبیلہ پہلے آباد تھا۔ وہاں یاد گار ساہیوال کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔

ساہیوال ضلع میں اس وقت ساہی قوم بہت ہی قلیل تعداد میں موجود ہے سب سے زیادہ ساہی قبیلہ ساہیوال کے نواحی چک 60،61 جی ڈی میں آباد ہیں جو کہ ساہیوال شہر سے تقریباَ 15 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسے 60 ،61 بلوانہ بھی کہتے ہیں۔

دوسرے نمبر پر ساہی وال سے 12 کلو میٹر دور محمد پور روڈ پر ٹھٹھہ ساہی گاؤں میں ساہی قبیلہ آباد ہے۔ ساہی قبیلہ یہاں پر 1960 سے آباد ہے۔

تیسرے نمبر پر ساہی وال سے 13 کلو میٹر دور محمد پور روڈ سے جرمار روڈ تک چک نمبر 62 جی ڈی میں چند گھر ساہی قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

ساجد حسین ساہی کے مطابق کسی بھی شادی یا فوتگی کے موقعے پر تمام چکوک سے ساہی قبیلہ کے گھر کا کم از کم ایک فرد لازمی شرکت کرتا ہے چاہے شدید قسم کے اختلافات ہی کیوں نہ ہوں۔

یہ بھی پڑھیے: چیچہ وطنی کا نام کس نے رکھا؟

قبیلے کی ایک روایت ہے کہ منگنی کے موقعے پر انگوٹھی نہیں پہنائی جاتی بلکہ گھر کے ہر فرد کے لیے پتا سے، خورمے یا چینی ایک پاؤ دی جاتی ہے۔ ہڑپہ شہر میوزیم کے کیوریٹر حسن کھوکھر نے بتایا کہ ساہی قبیلہ اس وقت زیادہ تر کھولے والے اور بچو مرے والے میں آباد ہیں ساہی قبیلہ اس وقت ساہیوال میں کم ہی تعداد میں آباد ہے زیادہ تر ساہی فیصل آباد کے علاقے ساہیوانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

ساہی وال میں موجود ساہی مقامی ہی ہیں چند گھرانے ساہیاانوالہ سے ہجرت کر کے یہاں آئے ہوئے ہیں۔ ساہی وال کو ساہی قوم سے منسوب کئے جانے کی وجہ یہ تھی کہ یہاں کا زیادہ تر رقبہ ساہی قوم کے پاس تھا۔

‘تاریخ ساہیوال’ کے مصنف ایم اے اشرف اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ساہی قوم کے نام پر ہی ساہیوال کی بنیاد رکھی گئی۔ 1881 کی مردم شماری کے مطابق ساہیوال میں اس قوم کی تعداد صرف 160 تھی۔ سیالکوٹ اور گجرات میں یہ کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں ان کا بزرگ محمود غزنوی کے ہمراہ غزنی گیا اور پھر واپس آ کر لاہور میں دریائے راوی کے کنارے آباد ہوا۔ ایک روایت کے مطابق سورج بنسی راجہ اگرسین کے چار بیٹے تھے۔ چہیل (چاہل)، چیچہ، چھینا اور ساہی اس نام کے چار جٹ قبائل انہی چاروں کی اولاد ہیں۔
بشکریہ سجاگ

About Kashif Saleem

Kashif Saleem
Kashif Saleem is a reporter for Sahiwal News. He is an educationist and has also worked as a columnist for The News. He covers education and features for Sahiwal News. Email : kashifsaleem@sahiwalnews.com.pk Phone: +923336908479

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے