Home / آس پاس / کسووال پولیس کانسٹیبل کا طالبعلم پر برہنہ کر کے تشدد، ویڈیوز بھی بناتا رہا

کسووال پولیس کانسٹیبل کا طالبعلم پر برہنہ کر کے تشدد، ویڈیوز بھی بناتا رہا

کسووال پولیس ملازم نے بھائی اور ساتھی کی مدد سے طالب علم اغوا کر لیا، ڈیرہ پر لے جاکر کر برہنہ کرکے تشدد ، ویڈیو بھی بناتے رہے

تفصیلات کے مطابق کسووال کے نواحی گاؤں 103 بارہ ایل کے رہائشی محمد امیر اسد کا جوان سال بیٹا فرحان حیدر جو کہ ٹیکنالوجی کالج ساہیوال میں زیر تعلیم بتایا گیا ہے، مورخہ 13 مئی 2019 کو کالج سے گھر آنےکے لیے رات 9 بجے کے قریب اڈا 103 باریل ایل پر رکشہ سے اترااور پیدل گھر کی طرف جاتے ہوئے اسےنواحی گاؤں 102 بارہ ایل کے پولیس ملازم محسن علی نے اپنے بھائی علی حسن اور ساتھی ذیشان عالم کے ہمراہ اغوا کر لیا۔

ملزمان طالب علم فرحان حیدر کو اپنے ڈیرہ پر لے گئے اور اسے زبردستی برہنہ کرکے تشدد کے دوران اپنے موبائل سے اس کی ویڈیو بناتے رہے۔

طالبعلم فرحان حیدر کے والد امیر اسد نے پولیس تھانہ کسووال کو کاروائی کے لیے درخواست دی مگر 24گھنٹے گزرنے کے باوجود کارروائی نہ ہونا پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

(نوٹ: دیگر ویڈیوز مکمل برہنہ اور پرتشدد ہونے کے باعث شیئر نہیں کی جا سکتیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے