جمعرات , 17 اکتوبر 2019
Home / اردو کالمز / پاکستان کی سیاسی ڈائری (مقصود احمد سندھو)
pakistan news

پاکستان کی سیاسی ڈائری (مقصود احمد سندھو)

اقوام متحدہ میں کی گئی وزیراعظم پاکستان کی تقریرکے دنیابھرمیں چرچے لیکن ملک میں اپوزیشن کاغیرسنجیدہ رویہ برقراراورپرائم منسٹرکی تقریرپرشدید تنقیدجاری۔ ہندوستان کے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم اورجرائم روکنے کیلئے عالمی برادری کوکرداراداکرناہوگا ورنہ کشمیرمیں ایک بڑاانسانی المیہ جنم لے سکتاہے۔وزیراعظم عمران خان کی جارحانہ تقریر اور ہندوستان پرتابڑتوڑلفظی گولہ باری کے باؤنسرزکاردّ عمل کیاہوگا؟

اقوام متحدہ ایک طاقتورفورم ہے اوراس کے ذریعہ کوئی بھی ملک اپنی خاجہ پالیسی کے مطابق اپنے مسائل اور علاقائی مشکلات اس پلیٹ فارم سے اقوام عالم کے سامنے رکھتاہے اوراقوام متحدہ کے ادارے اورذیلی تنظیمیں مسائل حل کرنے میں اہم کرداراداکرتے ہیں۔ اقوام عالم کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے کہاکہ اقوام متحدہ پربھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشمیرکے دیرینہ مسئلہ کوحل کرنے میں اپنا کرداراداکرے کیونکہ ہندوستانی فاشسٹ حکومت کشمیریوں کے ساتھ گزشتہ 73 برسوں سے بدترین سلوک روا رکھے ہوئے ہے اوراب ہندوستانی رویہ میں مزید سختی اورانسانی حقوق کی خلاف ورزی میں تیزی آچکی ہے اور وہ انسانوں کے ساتھ وحشیانہ اورجنگی جرائم کا مرتکب ہورہاہے۔ہزاروں خواتین کوجنسی تشددکانشانہ بنایاجاچکاہے نوجوانوں اورکمسن بچوں کوجیلوں میں بندکرکے ان پربہیمانہ تشدد کیاجارہاہے ہزاروں نوجوان لاپتہ ہیں جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا کہ وہ کہاں ہیں۔

80لاکھ کشمیریوں کی آبادی پر 10 لاکھ بے رحم فوجی اور آرایس ایس کے بھیڑیے مسلط کیے گئے ہیں جن کے مظالم سے انسانیت شرمارہی ہے اس کے علاوہ وزیراعظم نے ہندوستانی جارحیت کا پردہ چاک کرتے ہوئے اس کے منہ سے امن پسندی کانقاب اتارکراس کاسفاک چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کردیاہے۔عمران خان کی تقریرمیں امریکہ،ہندوستان اورعالمی برادری پر مسلسل باؤنسرز پر باؤنسرزپھینکے گئے امریکہ کواس کے ناجائز اقدامات اورمطالبات،عالمی برادری کواس کی بے حسی جبکہ ہندوستان اورآرایس ایس کے عزائم اورفلسفہ کو دنیا کے سامنے طشت از بام کیااوران کے خطاب میں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ بھی نظرآیاکہ ماضی کی طرح اب پاکستان عالمی مفادات کی خاطرتختہ مشق نہیں بنے گا۔

سیاسی اورعسکری قیادت کے ایک پیج پر ہونے کی وجہ سے خارجہ پالیسی مضبوط بنیادوں پراستوار ہوتی نظرآرہی ہے جس کی وجہ سے بڑے بڑے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی ماضی کی حکومتوں کے غیرسنجیدہ رویے کی وجہ سے پاکستان خارجہ محاذ پرتنہائی کا شکاررہا کیونکہ ملک کو ایڈہاک اورڈنگ ٹپاؤبنیادوں پرچلایاگیاجس کی وجہ سے تجارتی اورمعاشی نقصان ہوتارہا اس وقت پاکستان کو عالمی سیاست کے منظرنامہ پرایک اہم فریق کے طورپردیکھاجارہا ہے اقوام عالم کی نظریں پاکستان کا گہری نظروں سے مشاہدہ کررہی ہیں جس کا واضح اشارہ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کوعظیم رہنما اورپاکستانی قوم کوعظیم قوم قراردینا ہے اس سے اندازہ ہوتاہے کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کا انحصار پاکستان پر کس قدرزیادہ ہے۔

اس کااندازہ عالمی رہنماؤں کی وزیراعظم پاکستان کے ساتھ کثرت سے ہونے والی ملاقاتوں سے بھی لگایاجاسکتاہے اس کے علاوہ وزیراعظم نے دورہئ امریکہ کے دوران مختلف مواقع پرمیڈیا کودیئے گئے چھ سے زائد انٹرویوزکے دوران پاکستانی مؤقف کوکھل کردوٹوک الفاظ میں بیان کیا اوروہ عالمی میڈیاپرٹاپ ٹرینڈبنے رہے جبکہ ان کے مدمقابل نریندرمودی پس پردہ اور پسپا ئی کاشکارنظرآئے۔پاکستان نے ہندوستان کواس موقع پرمکمل”کلین بولڈ“ کردیا۔اقوام متحدہ میں کی گئی 50منٹ طویل تقریرپرتاحال بحث جاری ہے اپوزیشن اورہندوستان کی طرف سے انہیں شدیدتنقیدکانشانہ بنایاجارہاہے وقت کی طوالت کے حوالے سے ہندوستان اخلاقیات کاواویلاکرنے میں مصروف ہے حالانکہ ماضی میں بھی ایسا ہوتارہاہے۔ امریکہ اور کیوبا کے صدور بھی مقررہ وقت کوخاطرمیں نہ لاتے ہوئے طویل تقاریر کرچکے ہیں۔

فیڈرل کاسترو 269منٹ،افریقی ملک کے صدر141منٹ،انڈونیشیاکے صدر121منٹ اور2009میں کرنل قزافی 96منٹ کا خطاب کرچکے ہیں جس سے اندازہ ہوتاہے کہ ا قوام متحدہ کاکوئی قانون ایسا نہیں ہے جس سے تقریرکرتے ہوئے کسی ملک کے حکمران کو روکاجاسکے اگرایساہوتاتواقوام متحدہ کا صدرانہیں ضرور روک دیتااورقانون کی خلاف ورزی نہ ہونے دی جاتی۔عام طورپرمقررین کو15سے 25منٹ کاوقت ملتاہے ایک خیال کے مطابق پاکستانی اورہندوستانی حکمران ماضی میں اپنی تقاریروقت مقررہ پرختم کرلیتے تھے کیونکہ ان کے پاس کہنے کیلئے کچھ زیادہ نہیں ہوتاتھالیکن اگرکسی حکمران کے پاس دنیاکوبتانے کیلئے کچھ ہوتواسے روکانہیں جاتا۔ وزیراعظم کی تقریرعالمی میڈیاپرچھائی ضروررہی لیکن ماہرین کے مطابق اس تقریرکافوری اثرتب ہی ہوگا جب تک ہندوستان پراثراندازہونے والے ممالک اس پر دباؤ نہیں بڑھاتے اس وقت تک مسئلہ کے حل کیلئے کوئی ٹھوس شکل نظرنہیں آتی مبصرین کا خیال ہے کہ دنیاعمران خان کے خیالات کوسنجیدگی سے لے رہی ہے اور پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کی وجہ سے ہندوستان پردباؤبڑھے گا کیونکہ پاکستان کے سفارتی حملے کے سامنے ہندوستان چاروں شانے چت نظرآرہاہے اورہرآنے والا دن اس کی کشمیرپرگرفت ڈھیلی کررہاہے۔

پاکستان کے اندر اس تقریر کے خلاف ملا جلاردعمل دیکھنے کوملا،زیادہ ترلوگوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کی تقریرکوخوش آئند قراردیااورکہاگیاکہ وزیراعظم نے کشمیریوں کے سفیرہونے کاحق اداکردیاہے۔مقبوضہ کشمیراورآزاد کشمیرکے رہنماؤں کی طرف سے اظہارتشکرکے جذبات بھی سامنے آئے ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتیں پیپلزپارٹی،(ن)لیگ اورجمعیت علمائے اسلام (ف)کے بلاول بھٹو،مولانا فضل الرحمن اوراحسن اقبال سمیت کئی دوسرے سیاسی رہنما حکومت کومسلسل تنقیدکا نشانہ بنائے ہوئے ہیں ان کے مطابق وزیراعظم کی تقریرجذباتی اورتدبرسے عاری تھی اپوزیشن رہنماؤں کا خیال ہے کہ وزیراعظم کی حیثیت سے اُن کواپنامقدمہ زیادہ تدبّر اور سیاسی بصیرت سے پیش کرنا چاہئے تھا یوں کھلم کھلااقوام عالم کودھمکی آمیزانداز میں تنبیہ کرناکسی طورپردرست نہیں ہے سالہاسال سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کوبیک وقت نئی راہ پرڈالناکسی طورپرمناسب نہیں ہے جبکہ حکومتی جماعت کے حامی اسے ایک دلیرانہ اور معرکۃ الآرا تقریرقراردے رہے ہیں ان کے مطابق وزیراعظم نے مسلمانوں اورپاکستانیوں کے جذبات کی صحیح طورپرترجمانی کی ہے اس کے علاوہ ملک کا سنجیدہ طبقہ مجموعی طورپرپاکستانی کردارکواچھی نظر سے دیکھ رہاہے مگرساتھ ہی فکرمندبھی ہے کہ ایساطرزِعمل دنیامیں اس وقت اختیارکیا جاتاہے جب حالات انتہائی سنگین ہوں اورجب مطلوبہ بین الاقوامی حمایت حاصل نہ ہو اور حالات ”تنگ آمد،بجنگ آمد“تک پہنچ جائیں کیونکہ ایسے جارحانہ خیالات کاردعمل بھی آتاہے.

حالات وواقعات اپنی جگہ تنقیداوراختلاف رائے کے آگے بند نہیں باندھا جاسکتا کیونکہ اس سے تصویرکے دونوں رخ واضح ہوتے ہیں لیکن ملکی کامیابی کاانحصار اتفاق رائے میں ہے نہ کے بدامنی میں ہم نے80ہزارقربانیاں دے کردہشت گردی کے خلاف کامیابی حاصل کی ہے اور ہم کسی نئے ایڈونچرکے متحمل نہیں ہیں ہمیں اس بات کا ادراک ہوناچاہئے کہ ملکی دفاع، سالمیت اورتحفظ کے معاملات پرسیاست نہیں ہونی چاہئے کیونکہ ایک طرف انسانیت اورمسلم کش ٹرائیکاہندوستان،اسرائیل اورامریکہ کامسلمانوں کے خلاف اتحاد نظر آرہاہے دوسری طرف ہندوستان کے اندراس وقت بے چینی پائی جاتی ہے اوراس کی اقلیتیں پریشان اور خود کوپہلے سے غیرمحفوظ تصور کررہی ہیں اور عالمی دباؤ بھی اس وقت ہندوستان پرہے اس لئے اس موقع پرہمیں ملک کے وسیع ترمفاد میں اتحادویگانگت کی ضرورت ہے ناکہ بھان متی کے کنبہ کی طرح اپنی اپنی بولی بولنے میں مصروف نظرآئیں۔

About Muhammad Saeed

Avatar
I am Muhammad Saeed and I’m passionate about world and education news with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind Sahiwal News with a vision to broaden the company’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Mehar Abad Colony, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Phone: (+92) 300-777-2161 Email: admin@sahiwalnews.com.pk

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے