Home / آس پاس / جانیے چیچہ وطنی کی واحد سیاسی جماعت کے بارے میں
chichawatni political party

جانیے چیچہ وطنی کی واحد سیاسی جماعت کے بارے میں

ارشد فاروق بٹ:
دسمبر 2007 سے چیچہ وطنی کے کچھ نوجوانوں نے ایک فکری تحریک شروع کی جس کی بطور ایک سیاسی جماعت 2013 میں رجسٹریشن ہوئی۔
‎”تحریک احساس پاکستان ” چیچہ وطنی کی واحد سیاسی جماعت ہے جس کے بانی ارکان کا دعوی ہے کہ وہ روایتی طرز حکمرانی کو ٹھکرا کر عملی جد وجہد پر یقین رکھتے ہیں۔
“ہم منفی ہتھکنڈوں، ذات برادری یا تھانہ کچہری کی سیاست پر یقین رکھنے کی بجائے “بدلو خود کو بدلیں گے حالات” کا عملی نعرہ لے کر سیاست کےمیدان میں اترے ہیں۔”
محمد زبیر اسلم تحریک احساس پاکستان کے بانی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک کا مقصد نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو آوارگی سے بچا کر ایک مثبت راہ عمل دینا ہے۔ اور دوسرا شہریوں میں یہ شعور اجاگر کرنا ہے کہ نہ صرف اصل طاقت کا منبع وہ ہیں بلکہ بہتری بھی ان کی شمولیت اور کاوش کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ہمارے سرگرم کارکنان میں تعلیم و شعورکا رجحان ہی ہماری اصل کامیابی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ بہتری کی ایک چھوٹی سی کاوش تبدیلی کی شدید خواہش سے بہتر ہے۔
محمد ضیاء سیٹھی تحریک احساس پاکستان کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر اور انتہائی فعال کارکن ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ تحریک احساس کی داغ بیل ایک ایسے نوجوان نے ڈالی ہے جس نے بچپن سے جوانی تک موجودہ سیاسی نظام کو اس کے اندر رہتے ہوئے نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ اس کی مکمل جزیات کو گہرائی میں جا کر سمجھا بھی ہے. اور پھر بجائے اس اندھیر نگری میں مایوس ہو کر بیٹھ جانے کے یا وقت کے دھارے کے ساتھ بہنے کے اس نے اپنی سوچ اور نظریات کے مطابق زندگی گزارنے کا عزم کیا.
اس کیلئے بہت آسان تھا کہ موجودہ سیاسی سسٹم میں رہتے ہوئے نام و مقام بنا لیتا.. لیکن اس نے حق گوئی اور کوشش کا مشکل راستہ چنا اور اپنی زاتی زندگی, تعلق واسطے سب پس پشت ڈالے اور جُٹ گیا ایک نئی صبح کی کوشش میں.
وہ اس سیاسی نظام اور ان سیاستدانوں کے طرز سیاست سے بخوبی واقف ہے اور یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ راستہ آسان نہیں اس نے دس سال لگائے ایک ایسا راستہ ڈھونڈنے میں جو ہمارے آفاقی مقصد کی تکمیل کر سکے.
اس راستے میں دھونس, دھمکیاں, گالیاں اور رکاوٹیں برداشت کرنے کے باوجود اس نے کبھی پلٹ کر گالی نہیں دی اور نہ ہی کبھی لڑائی جھگڑے کا راستہ اپنایا. وہ تمام مشکلات اپنی ذات پر خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے اپنی منزل جی جانب رواں دواں ہے.. ایک ایسے معاشرے کی تکمیل کی جانب جہاں انصاف کا بول بالا ہو, سب کیلئے برابری ہو اور عوام کے حقوق کا تحفظ کیا جائے.
محمد آصف خالد تحریک احساس پاکستان کے چیئرمین ہیں۔ تحریک کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افراتفری کے اس دور میں اچھا کام کیا جائے اور مسائل نہ ہوں ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ لیکن ہماری بڑی کامیابی ایک ایسا جماعتی کلچر اور نظام تشکیل دینا ہے جو کسی بھی قسم کے دباؤ اور مسائل پر دلبرداشتہ یا پریشان نہیں ہوتا بلکہ انتہائی ٹھنڈے دماغ کے ساتھ ہر قسم کے حالات کا نہ صرف سامنا کرتا ہے بلکہ اس سے بچ کر آگے بھی نکل جاتا ہے۔اور اسکا عملی نمونہ ماضی قریب میں شہر کی باشعور عوام دیکھ چکے ہیں کہ ہم کس مصلحت اور دانش مندی سے اپنے موقف کو منوانے اور اپنے عملی سفر کو جاری رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
محمد فیصل رحمان تحریک احساس پاکستان کے صدر ہیں۔ تحریک کے میڈیا سیل کی فعالیت پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحریک احساس پاکستان ایک غیر رسمی سیاسی جماعت ہے ۔جس کا مطمع نظر بہتری کی عملی کاوشیں ہیں۔ آپ کی بات کسی حد تک درست ہے کہ ہم میڈیا سے دور رہتے ہیں لیکن اسکی دوسری وجہ مقامی میڈیا کی طرف سے ماضی قریب میں ہمارا غیر اعلانیہ بائیکاٹ بھی رہا ہے۔ الحمداللہ ہماری موجودہ کیبنٹ میڈیا اور انفارمیشن کے معاملہ میں بہت سنجیدہ ہے اور انشااللہ آپ کو جلد اس محاذ پر بھی بہتری نظر آئے گی۔
بدر نثار وڑائچ تحریک احساس پاکستان کے جنرل سیکرٹری ہیں۔اس سوال کے جواب میں کہ لڑاکا قسم کے سپورٹرز کے بغیر رسمی سیاستدانوں کا کس طرح مقابلہ کریں گے ، ان کا کہنا تھا کہ طاقت کا حصول کبھی بھی ہمارا مطمع نظر نہیں رہا۔ ہم جس دن عوام کو مکمل طور پر یہ احساس دلانے میں کامیاب ہو گئے کہ طاقت کا منبع اصل میں وہ عام شہری ہے جو انہی بدمعاشوں کی وجہ سےہر قسم کے سیاسی عمل سے دور رہتا ہے، وہ دن انقلاب کا دن ہو گا۔ ہمارا ماننا ہے کہ ووٹ کی طاقت سب سے بڑھ کر ہے.
محمد اویس محمود تحریک کے بانی ممبران میں سے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ گزشتہ11 سال سے ہمارا کوئی بھی کارکن جماعتی تو درکنار ذاتی حیثیت میں بھی لڑائی جھگڑے میں ملوث نہیں رہا۔ آپ لڑائی جھگڑے کو چھوڑیں ہم تو کبھی گالم گلوچ میں بھی ملوث نہیں ہوئے۔ ایسے میں یہ سوال بہت عجیب اور بے معنی ہے کہ اختیار ملنے پر خدانخواستہ ہم ایم کیو ایم تو نہیں بن جائیں گے۔ ہم اختلاف رائے کو برداشت کرنے والے لوگ ہیں جو عدم تشدد اور سیاسی اخلاقیات کے سختی سے پابند ہیں اور انشااللہ ہمیشہ رہیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بحیثیت ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت الیکشن میں حصہ لینا ہمارا حق ہے اور انشااللہ جب مناسب سمجھا جائے گا اس کا بھرپور استعمال بھی کیا جائے گا۔ باقی جہاں تک بات رہی ووٹ کسی کی جھولی میں ڈالنے کی تو نہ ایسا ماضی میں ہوا ہے نہ انشااللہ مستقبل میں ہو گا۔مقامی دونوں بڑے گروپس سے کبھی اتحاد نہیں ہوگا۔ہم اپنے سیاسی سفر کا آغاز انشاءاللہ آئندہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے کرینگے۔ ہمارے 80 فیصد ٹکٹ 30 سال یا اس سے کم عمر نوجوانوں کیلئے ہوں گے۔
جو آدمی کبھی بھی کسی بھی سیاسی جماعت کے ٹکٹ سے الیکشن لڑ چکا ہو گا اسے ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔ ہاں اگر وہ پانچ سال بحیثیت ممبر تحریک میں پورے کر لے اور اس کا عملی کام بھی قابل فخر ہو تو ٹکٹ اپلائی کر سکتا ہے۔
اہل چیچہ وطنی کے لیے ہمارا پیغام عمل ہے۔ یہ بات عوام کو سمجھ لینی چاہیے کہ دہائیوں تک اقتدار کے مزے لوٹنے والے ان کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ اگر آگے بڑھنا ہے تو اپنے زور بازو پر بھروسہ کرنا ہو گا۔ “بہتری کا آغاز آج سے، اپنے آپ سے” ہمارا نعرہ ہی نہیں بلکہ اسے ہم نے اپنے عمل سے ثابت بھی کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ چیچہ وطنی کے تمام لوگ اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور اپنے مسائل کے حل کیلئے کسی کی طرف دیکھنے کی بجائے خود آگے آئیں۔ انشااللہ اقتدار پر قابض بت خود بخود ٹوٹ جائیں گے اور اقتدار حقیقی معنوں میں عوام کے ہاتھوں میں ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے