جمعرات , 17 اکتوبر 2019
Home / اردو کالمز / کشمیریوں کا آزادی مارچ ، کس کے لیے خطرے کی گھنٹی؟
urdu columns on azadi march kashmir
Azadi March Kashmir 2019

کشمیریوں کا آزادی مارچ ، کس کے لیے خطرے کی گھنٹی؟

تحریر : ارشد فاروق بٹ
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے آزادی مارچ میں شامل ہزاروں افراد گڑھی دوپٹہ سے چکوٹھی لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کررہے ہیں۔

مارچ میں شامل کارکنان گزشتہ روز گڑھی دوپٹہ پہنچے تھے جہاں سے ان کی اگلی منزل چکوٹھی ہے۔ مارچ میں شامل شرکا نے کشمیر کی آزادی کے حق میں بینرز ، کشمیر کا پرچم، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنماؤں امان اللہ خان اور یاسین ملک کی تصاویر اٹھارکھی ہیں۔

مارچ کے شرکا کا مؤقف ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیرمیں محصور اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، کنٹرول لائن کشمیریوں کےلئے نہیں ہے، ہمارے لئے یہ سیز فائر لائن ہے اوراقوام متحدہ ہمیں سیز فائر لائن عبور کرنے کی اجازت دیتی ہے، اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی تعیناتی کا مقصد جنگ بندی کی خلاف ورزی کو مانیٹر کرنا ہے نہ کہ کشمیریوں کی دو طرفہ آمد و رفت کو روکنا۔

پاکستان حکومت نیم دلی سے اس مارچ کو قبول کر رہی ہے اور حکومتی وزرا کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی حکومت آزاد کشمیر کے شہریوں کی جانب سے شروع کیے گئے اس مارچ سے خوش نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ اس مارچ سے بھارت کو فائدہ ہو گا اور صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔

حکومت کی بے دلی دراصل جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے اس بیانیے کی بدولت ہے جسے ہمارا میڈیا چھپائے ہوئے ہے۔ گزشتہ روز الجزیرہ نے اس مارچ کو لیڈ کرنے والے رہنماؤں سے بات کی ہے جن کا مؤقف ہے کہ وہ دونوں ممالک سے آزادی چاہتے ہیں۔

اس مارچ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم پاکستان آرمی اور حکومت اس وقت دہری آزمائش میں ہے، مارچ کو روکتے ہیں تب بھی یہ غیر مقبول فیصلہ ہو گا جسے کشمیری تسلیم نہیں کریں گے۔ اگر اجازت دیتے ہیں تو لائن آف کنٹرول پر ہلاکتیں ہو سکتی ہیں جو بالآخر جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

کشمیریوں نے اپنی نوعیت کا انوکھا احتجاج کر کے ثابت کر دیا ہے کہ اب وہ سٹیٹس کو سے تنگ آگئے ہیں۔ تاہم حکومت پاکستان کو صورتحال اس نہج تک پہنچنے سے پہلے کچھ کرنا چاہئے تھا۔ کشمیریوں نے بھارتی اقدام کے بعد حکومت پاکستان کو طویل وقت دیا لیکن پاکستان کی جانب سے مناسب ردعمل نہ ہونے پر کشمیری اپنے حقوق کے لیے خود سڑکوں پر آگئے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان پس پردہ کسی ڈیل کی چہ مگوئیاں بھی جاری ہیں جس سے کشمیریوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔ اور ایسی افواہیں باہر سے نہیں بلکہ اپوزیشن کے حلقوں کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں۔

تقسیم ہند کے وقت سکھ مسلمانوں کے دشمن نہیں تھے، لیکن پنجاب کی تقسیم ایک ایسا کارڈ تھا جسے ہندو بنئے نے خوب مہارت سے استعمال کیا، آج کشمیری ویسی ہی صورتحال سے نبردآزما ہیں اور وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کو دو مستقل سرحدی علاقوں میں تقسیم کر دیا جائے۔

About Muhammad Saeed

Avatar
I am Muhammad Saeed and I’m passionate about world and education news with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind Sahiwal News with a vision to broaden the company’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Mehar Abad Colony, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Phone: (+92) 300-777-2161 Email: admin@sahiwalnews.com.pk

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے