جمعرات , 17 اکتوبر 2019
Home / اردو کالمز / ایاک نعبد سے لاالہ تک
imran khan speech in unga

ایاک نعبد سے لاالہ تک

تحریر : مراد علی شاہد دوحہ قطر
اصغر سودائی تحریک پاکستان کی جدوجہد میں بلند ہونے والے نعرہ”پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ“ کے خالق ہیں۔ تخلیق کے پس منظر میں وجہ تخلیق صدائے مسلمانان برصغیر یعنی پاکستان کا مطلب کیا، بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب وہ طالب علم تھے تو ہندو طلبا اس سے پوچھا کرتے تھے کہ پاکستان کا مطلب ہے کیا؟ تو اس کے جواب میں ایک دن میں نے کہا کہ لاالہ الااللہ، بعد ازاں پھر اسی وزن پر پوری نظم بھی بنا ڈالی۔

اصغر سودائی کے بلند کردہ نعرہ حق کو اقوام عالم کے سامنے دنیا کے سب سے بڑے پلیٹ فارم پر جس انداز میں پاکستان کے وزیر اعظم نے پیش کر کے صحیح معنوں میں راسخ العقیدہ مسلمان ہونے کا حق اداکردیا، یا پھر یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اصغر سودائی کی روح کوتسکین بہم پہنچانے کا سامان کردیا۔

اقوام متحدہ کے74ویں اجلاس میں جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے ایاک نعبد وایاک نستعین سے آغاز کرتے ہوئے جن خیالات کو اپنی طرف مرکوز مبذول کیا ان میں سے دو نکات خصوصی اہمیت کے حامل ہیں، ایک مسئلہ کشمیر کے حل پر آواز بلند کرنا اور دوسرا مسلمانوں کے مغرب کی طرف سے پیش کردہ تشخص کی نفی کرتے ہوئے مثالی مسلمان کے امیج کو بہتر طور پر پیش کرنا۔

یہ صرف دونکات ہی نہیں تھے بلکہ اس سے مسلمانوں کا بین الاقوامی سطح پر اسلامی تشخص اجاگر ہوا، مسلمانوں کو احساس خود آگاہی سے روشناس کرایا جس کا اظہار علامہ اقبال اپنے اشعار میں بھی کر چکے ہیں کہ،

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سردارا

قوم کا کھویا ہوا وقار بحال کرایا، مسلمانوں کو ان کی اہمیت اور اہل مغرب کوان کی اوقات یاد دلائی کہ اصل میں تم کیا ہو، دلچسپ بات یہ تھی کہ اہل مغرب کو انہی کی تاریخ سے دلائل دے کر انہیں شرمندہ ورسوا کیا۔

وزیراعظم کی تقریر سے ایک بات اور بھی کھل کر سامنے آئی کہ جو مسلمانوں کا تصور مغرب پیش کر رہا ہے وہ خیال باطل ہے. حقیقت سے ان کا کوئی تعلق ہے، حقیقت کیا ہے؟ وہ ہے اسلام کی وہ شکل جو آج سے پندرہ سو سال قبل حضرت محمدﷺ نے ریاست مدینہ کی شکل میں پوری دنیا کے سامنے رکھی۔

اس کی وضاحت اس لئے بھی ضروری تھی کہ نائن الیون کے بعد مغرب اور کچھ ہمارے نام نہاد علما وسیاسی راہنماؤں نے بھی مسلمانوں کو اعتدال پسند اور انتہا پسند مسلمانوں میں تقسیم کیا ہوا تھا۔ عالم اقوام کو یہ بتانا بھی ضروری تھا کہ مسلمان تقسیم نہیں بلکہ حقیقت میں مسلمان وہی ہے جو آقاﷺکے اس دین کو مانتا ہے جو انہوں نے مدینہ کی ریاست میں پیشک کیا۔ مسلمان صرف ایک ہیں۔ اور دنیا کے تمام مسلمان اپنے نبی اکرم ﷺسے دل سے پیار کرتے ہیں اگر انکی شان میں کوئی گستاخی کی گئی تو مسلمانوں کے دل کو ٹھیس پہنچے گی جو جسمانی تکلیف سے زیادہ اذیت کا باعث ہوگی۔

سب سے اہم مسئلہ کی طرف دنیا کی توجہ دلاتے ہوئے انہوں نے دنیا اور بھارت کو اپنا پیغام اس طرح سے سنایا کہ ہم دونوں ایٹمی اسلحہ کے حامل ملک ہیں، اگر باقاعدہ جنگ ہوتی ہے تو اقوام متحدہ اس کا ذمہ دار ہے کیونکہ 1945 میں اقوام متحدہ اسی لئے بنائی گئی تھی، میرا ملک اگرچہ چھوٹا ہے تاہم اگر جنگ ہوتی ہے تو میرے پاس کیا چوائس ہوگی، ہتھیار ڈال دونگا یا خون کے آخری قطرہ تک جنگ لڑوں گا، لا الہ الااللہ میں لڑوں گا، اور جب دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو پھر دوں ملک ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ پوراخطہ اس کی لپیٹ میں آجائے گا۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو اقوام متحدہ اس کا ذمہ دار ہوگا، ان کا یہ بھی فرض ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق، حق خودارادیت دیتے ہوئے انڈیا کی طرف سے نافذ کردہ کرفیوکو ختم بھی کرائے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ وزیر عمران خان نے جو کشمیری بھائیوں سے وعدہ کیا تھا کہ میں کشمیر کی آواز بن کر مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے پیش کروں گا۔ یقینا انہوں نے ایسا کردکھایا۔ خدا انہیں اپنے مقاصد میں کامیاب وکامران کرے اور مسئلہ کشمیر عمران خان کے ہاتھوں حل ہونے کا باعث بھی بنے۔آمین .

ایاک نعبد سے لاالہ تک کا دورانیہ اگرچہ پچاس منٹ کا تھا لیکن ان پچاس منٹ میں وزیراعظم نے پچاس برسوں سے معلق مسائل کو ایسے اجاگر کیا کہ بھارت اور عالمی طاقتوں کی طرف سے ڈالی گئی گرد ایک دم ہوائے حق نے اڑا کر پاکستان کے قدموں کی دھول بنا دیا۔

اگرچہ کہا جاتا ہے کہ ضیاالحق نے بھی اقوام متحدہ کے اجلاس میں تلاوت کروائی تھی، لیکن اس راز سے پردہ سید وقار عظیم نے اپنی کتاب ”ہم بھی وہیں موجود تھے“ اٹھایا ہے کہ دراصل اظہر لودھی کی کمپیئرنگ اور قاری خوشی محمد کی تلاوت اقوام متحدہ سے منسلک ایک سٹوڈیو میں کی گئی تھی، جہاں تمام ممالک سے آئے ہوئے وفود کو یہ سہولیات فراہم کی جاتی ہیں کہ وہ خبریں اپنے اپنے ممالک کو بھجواسکیں۔

صدر پاکستان نے ٹی وی کا استعمال اس طرح سے کیا کہ لگا کہ اقوام متحدہ میں تلاوت ہو رہی ہے۔ لیکن عمران نے جو کلمہ حق کی صدا ایوان باطل کے پلیٹ فارم سے بلند کی، اللہ کرے صدا کی اس طاقت سے زور باطل نیست ونابود ہو جائے۔

About Muhammad Saeed

Avatar
I am Muhammad Saeed and I’m passionate about world and education news with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind Sahiwal News with a vision to broaden the company’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Mehar Abad Colony, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Phone: (+92) 300-777-2161 Email: admin@sahiwalnews.com.pk

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے