جمعرات , 17 اکتوبر 2019
Home / اردو کالمز / ہم اور ہمارے گھوڑے تیار ہیں
urdu columns today

ہم اور ہمارے گھوڑے تیار ہیں

تحریر : مراد علی شاہد دوحہ قطر
18 مئی1974 میں ہندوستان نے راجستھان میں ایٹمی دھماکے کئے تو خطے میں تشویش کی ایک لہر دوڑگئی کہ اب پاکستان کے لئے ہندوستان کی عسکری برتری کو چیلنج کرنا مشکل ہو جائے گا۔ مگر دشمن یہ بات بھول گیا کہ ہمارا تعلق اس دین محمدی ﷺ سے ہے جو امن آشتی کے ساتھ ساتھ اپنے جنگی گھوڑوں کو ہر دم تیار رکھنے کا حکم صادر بھی فرماتاہے۔تو پھر ہندوستان کی اس ایٹمی دھماکوں کی نمائش پر مہر بلب کیوں کر رہ سکتا ہے۔

جواباً اگرچہ پاکستان نے ایٹمی صلاحیت صلاحیت حاصل لی تھی تاہم 28 مئی1998 میں چاغی کے مقام پر باقاعدہ ایٹمی دھماکے کر کے ہم نے دشمن کو یہ پیغام پہنچا دیا کہ خطہ کے امن کو اگر انتشار میں بدلنے کی کوئی بھی عسکری حرکت ہندوستان کی طرف سے کی گئی تو صرف ایشیا ہی نہیں پوری دنیا اس کے مضمرات سے متاثر ہو کر رہے گی، کبھی کبھار ایسا کرنا پڑتا ہے کہ دشمن حملہ کرتے وقت سو سو بار سوچے، کبھی کبھی پاگل پن کا علاج جوابی جنونی شدت ہی ہوا کرتا ہے تاکہ دشمن کہیں یہ نا خیال کر لے کہ ہم خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔

پاکستان اور ہندوستان کی مسئلہ کشمیر پر حالیہ صورت حال پر بہت سے اندرونی و بیرونی عناصر یہ گمان باطل کر رہے ہیں کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو ہندوستان بڑی ریاست، وافر اسلحہ اور جنگی جنون میں مبتلا ہونے کی بنا پر خدانخواستہ پاکستان کو جانی، مالی اور عسکری نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اب اگر دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو کچھ زیادہ دن نہیں چل سکے گی وغیرہ وغیرہ۔

مجھے لگتا ہے کہ ہماری سیاسی وملٹری قیادت ایسے انتشار ی اذہان سے پوری طرح سے باخبر ہیں، جبھی تو انہوں نے گذشتہ روز غزنوی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کر کے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ بھا رت کے وہ علاقے جو 290 کلومیٹر کی دوری پر ہیں ہمارے میزائلوں سے اب چند منٹ کے فاصلہ پر ہیں۔

اگر پاکستانی میزائل ٹیکنالوجی کی بات کی جائے تو پاکستان کے پاس زمین سے زمین پر ہدف بنانے والے چار اقسام کے میزائل موجود ہیں جس کا پاکستان نے کامیاب تجربہ کر رکھا ہے۔پہلی قسم میں بیٹل فیلڈ رینج بیلسٹک میزائل کی ہے جس میں حتف 50 کلومیٹر، نصر70کلومیٹر، اور ابدالی 200 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری قسم شارٹ رینج بیلسٹک میزائل کی ہے جس میں غزنوی 300 کلومیٹر، شاہین ون 750 کلو میٹر سے900 کلومیٹر تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔

تیسری قسم میڈیم رینج بیلسٹک میزائل کی ہے جس میں غوری ون1500 کلومیٹر، غوری ٹو1800 کلو میٹر، ابابیل2200 کلومیٹر، شاہین ٹو2500 کلومیٹراور شاہین تھری 2750 کلومیٹر تک کے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

چوتھی قسم کروز میزائل کی ہے جس میں بابر ون حتف سیون 700 کلومیٹر، بابر ٹو حتف سیون 750 کلومیٹر اور رعد حتف ایٹ 550 کلو میٹر تک کے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔گویا ہمارے پاس میزائل ٹیکنالوجی 50کلومیٹر سے2750 کلومیٹر کی رینج میں اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

رہی بات جنگی جنون، بڑی ریاست، عوامی وعسکری تعداد میں زیادتی کی تو جنگ تعداد سے نہیں، جذبات سے نہیں جذبے سے، ایمان کی مضبوطی اور حکمت عملی سے لڑی جاتی ہے۔ اور یہ سب ہمارے ایمان کا جزولاینفک ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہئے کہ ہمارا دین امن و آشتی کا سب سے بڑا پیامبر ہے، ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ ہم نے جن ریاستوں کی بھی فتح کیا پہلا پیغام امن، دوسراجزیہ اور تیسرا اعلان جنگ ہوا کرتا تھا۔ تاریخ اس بات کی بھی شاہد ہے کہ جب مسلمان اعلان جنگ کرتا ہے تو پھر فتح یا شہادت ہی اس کا مطلوب ومقصود ہوا کرتی ہے۔

عسکری ترجمان میجر جنرل آصف غفور اور وزیر اعظم عمران خان مسئلہ کشمیر اور ہندوستانی جنگی جنون کے خلاف ایک فیصلہ کن سوچ بنائے ہوئے ہیں جس کا اندازہ دشمن اور عوام کو وقت پر ہی پتہ چلے تو بہتر ہوگا۔

ظاہر ہے کہ ہماری پوری فوج کی عسکری حکمت عملی اورعوام کی سیاسی شعور کی پختگی اس وقت ایک پلیٹ فارم پر ہیں ماسوا چند بن الوقت اور شر پسند عناصر جو پاکستان کے استحکام کو کسی طور برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ انتشاری عناصر در پردہ عمران حکومت کے نہیں دراصل پاکستان کے خلاف کسی ایجنڈا پرکام کر رہے ہیں۔

وگرنہ حب الوطنی کا تقاضا تو اس وقت یہی تھا کہ سب یک زبان ہوتے اور ہرمسئلہ پر ایک پلیٹ فارم پر ہوکر دشمن کو پیغام جاری کرتے کہ ہم سب ایک ہیں۔

حکومت اور افواج پاکستان یقینا دادوتحسین کی مستحق ہے کہ انہوں نے مل کر پوری قوم کو یہ پیغام پہنچانے کی سعی کامل کی ہے کہ ہم امن کے خواہاں ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ غزنوی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کر کے یہ پیغام بھی دشمن تک پہنچا دیا ہے کہ مسلمان اپنے چالاک سے چالاک اور طاقتور سے طاقتور دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت اپنے گھوڑوں کو تیار رکھتا ہے۔

About Muhammad Saeed

Avatar
I am Muhammad Saeed and I’m passionate about world and education news with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind Sahiwal News with a vision to broaden the company’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Mehar Abad Colony, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Phone: (+92) 300-777-2161 Email: admin@sahiwalnews.com.pk

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے